چینائی ۔ یکم؍ نومبر (یو این آئی) ٹاملناڈو کے وزیر اعلی اور ڈی ایم کے کے صدر ایم کے سٹالن ریاست میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف متحدہ اپوزیشن کے مابین تبادلہ خیال کرنے اور ہم آہنگی پیدا کرنے اور اگلے اقدام کی حکمت عملی وضع کرنے لیے کل آل پارٹی میٹنگ کی صدارت کریں گے ۔ شہر کے اسٹار ہوٹل میں منعقد ہونے والی یہ میٹنگ ان خدشات کے درمیان ہونے جارہی ہے کہ 4 نومبر کو شروع ہونے والی ایس آئی آر کی کارروائی سے رائے دہندگان حق رائے دہی سے محروم ہوسکتے ہیں اور 2026 کے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات سے قبل جمہوری عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ اسٹالن نے معاملے کی سنگین نوعیت کو اجاگر کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو درکنار رکھتے ہوئے اس کا مقابلہ کرنے کیلئے متحد ہوں، کیونکہ یہ شہریوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی سازش ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن کی ایس آئی آر کرانے کی عجلت اور مبہم طرز عمل، خاص طور پر نومبر اور دسمبر کے بارش کے مہینوں میں، عملی مشکلات پیدا کرے گا اور حق رائے دہی سے محرومی کا خطرہ ہوگا۔ وزیر اعلی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایس آئی آر کے عمل سے خواتین، اقلیتوں اور درج فہرست ذاتوں جیسے کمزور طبقات متاثر ہوں گے ، جو بہار میں بڑے پیمانے پر ووٹروں کو ہٹائے جانے کی مانند ہے جہاں مبینہ طور پر شفافیت کا فقدان درج کیا گیا ہے ۔ اس آل پارٹی میٹنگ کا دعوت نامہ نہ صرف ڈی ایم کے کے اتحادی شراکت داروں کو دیا گیا ہے بلکہ سیاسی میدان کے تمام لیڈروں کو بھی دیا گیا ہے ، جن میں پی ایم کے ، ٹی وی کے اور اداکار سیمن کے این ٹی کے ، اور دیگر شامل ہیں۔
