اسپین جولائی تک فلسطین کو تسلیم کر لے گا: وزیر اعظم

   

میڈرڈ: اسپین کے وزیر اعظم نے ایک بار پھر یہ اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک ماہ جولائی تک فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کر لے گا۔ وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اس امر کا اعلان اردن میں کیا ہے۔ وہ ان دنوں مشرق وسطیٰ کے بعض ملکوں کے دورے کے سلسلے میں اردن کے دورے پر ہیں۔ قطر اور سعودی عرب کا دورہ بھی ان کے شیڈول کاحصہ ہے۔ان کی اس گفتگو کے بارے میں اسپین کے ذرائع ابلاغ نے منگل کے روز مختلف رپورٹس شائع کی ہیں۔ اسپین کے خبر رساں ادارے ‘ای ایف ایف ‘ کے علاوہ اخبارات نے بھی وزیر اعظم اسپین کی اردنی دارالحکومت عمان میں پیر کی رات ہونے والی گفتگو کو رپورٹ کیا ہے۔ان اخباری رپورٹس کے مطابق سانچیز نے کہا ‘ میں توقع کرتا ہوں کہ آنے والے دنوں میں جب ماہ جون کے شروع میں یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات ہوں گے تو اس دوران ایک تنازعہ سامنے آئے گا۔ جیسا کہ اقوام متحدہ میں ہونے والے حالیہ مباحثے کے دوران بھی ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی توقع ظاہر کی ہے کہ اسپین فلسطین کو اگلے ماہ جولائی تک تسلیم کر لے گا۔میں یہ بھی خیال کرتا ہوں کہ یورپ میں ایک تنازعہ کھڑا ہوگا۔ کیونکہ یورپی یونین دباؤ ڈالے کہ کہ فلسطین کے بارے میں وہی موقف اختیار کیا جائے۔سانچیز نے کہا 22 مارچ کو اسپین نے اپنے ساتھی ملکوں آئر لینڈ، مالتا اور سلووینیا کے ساتھ یہ متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے۔ ایسی فلسطینی ریاست جو مغربی کنارے اور غزہ پر مشتمل ہو گی۔ ا س وقت ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی قانون ساز جس کا آغاز پچھلے سال ہوا ہے اپنے چار برسوں کے دوران فلسطین کو تسلیم کر لے گی۔اس کے جواب میں اسرائیل نے ان چاروں ملکوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا یہ اعلان کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے تو ان کا یہ اقدام دہشت گردی کو انعام دینے کے مترادف ہو گا۔خیال رہے عرب ممالک اور اسپین نے ماہ نومبر میں فلسطینی تنازعے کے دو ریاستی حل کے لیے ایک اجلاس پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ اجلاس اسپین میں بلایا جائے گا۔ 1988 سے اب تک اقوام متحدہ کے 193 ممبر ملکوں میں سے اب تک 139 ملکوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا ہے۔