اسپیکر سے سنبھل تشدد پر ایوان میں بحث کرنے کا مطالبہ

   

رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمن کی عدم موجودگی کے باوجود ان کے خلاف ایف آر درج:اکھلیش
لکھنو ۔ سنبھل میں ہوئے تشدد پر پورے یوپی میں ہنگامہ ہے۔ اکھلیش یادوکی قیادت میں ایس پی ارکان پارلیمنٹ نے لوک سبھا اسپیکر سے ملاقات کی ہے۔ ایس پی ارکان پارلیمنٹ نے اسپیکر سے سنبھل تشدد پر ایوان میں بحث کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس دوران اکھلیش نے سنبھل کے ایم پی کے خلاف درج ایف آئی آر کا مسئلہ اٹھایا اورکہا کہ وہ موجود نہ ہونے کے باوجود ایف آئی آر درج کروائی گئی۔ انہوں نے سنبھل کے ایم پی کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں ارکان اسمبلی کیسے کام کریں گے۔ اکھلیش یادو سنبھل تشدد پر مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔ سنبھل کے ایم پی برک کے خلاف ایف آئی آر کے بارے میں اکھلیش نے کہا کہ ایم پی ضیاء الرحمن برک سنبھل میں موجود نہیں تھے۔ وہ بنگلور میں تھے۔ اس کے باوجود ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ حکومت نے اس فساد کو ہوا دی۔ عدالت نے دوسروں کی بات سنے بغیر سروے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی حکم کے فوراً بعد پولیس اور انتظامیہ سروے کے لیے جامع مسجد پہنچ گئی۔ 23 نومبرکو پولیس انتظامیہ نے کہا کہ اگلے دن یعنی 24 تاریخ کو دوبارہ سروے کیا جائے گا۔ پولیس انتظامیہ کو یہ حکم کس نے دیا؟ لوگوں نے سروے کی وجہ جاننا چاہی تو سرکل آفیسر نے ان کے ساتھ بدتمیزی کی۔ اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے لوگوں نے پتھراؤ شروع کردیا۔ بدلے میں پولیس کانسٹیبل سے لے کر افسران تک سبھی نے اپنے سرکاری اور ذاتی ہتھیاروں سے فائرنگ کی جس کی ویڈیو ریکارڈنگ موجود ہے۔ جس کی وجہ سے کئی لوگ زخمی ہوگئے۔ 5 بے گناہ لوگ مارے گئے۔ سنبھل کے ماحول کو خراب کرنے کے لئے پولس اور انتظامیہ کے لوگوں کے ساتھ ساتھ عرضی داخل کرنے والے لوگ بھی ذمہ دار ہیں۔ اسے معطل کرکے اس کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے تاکہ لوگوں کو انصاف مل سکے اور آئندہ کوئی آئین کے خلاف ایسے غیر قانونی واقعات کا ارتکاب نہ کر سکے۔ ایس پی سربراہ نے مزید کہا کہ اگر آپ بی جے پی کی بات سنیں گے تو آپ کھائی میں گر جائیں گے۔ مسلمانوں کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا۔ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ سی او نے گالی گلوچ کی اور لاٹھی چارج کیا۔ اس کے بعد پتھراؤ ہوا۔