اسپیکر لوک سبھا کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد

,

   

اوم برلا کا مسلسل جانبدارانہ رویہ ، اپوزیشن ارکان کو عوامی مفاد کے مسائل اُٹھانے سے روکنے کاالزام

  نئی دہلی، 10 فروری (یو این آئی) کانگریس اور دیگر  اپوزیشن جماعتوں نے منگل کے روز لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس لوک سبھا سکریٹریٹ میں جمع کرکے انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے ذرائع کے مطابق یہ نوٹس لوک سبھا میں کانگریس کے چیف وہپ کے سریش نے لوک سبھا کے سکریٹری جنرل اتپل کمار سنگھ کے دفتر میں پیش کیا۔ نوٹس پر 118 ممبران کے دستخط ہیں۔ لوک سبھا میں کانگریس کے 99 ممبران پارلیمنٹ ہیں۔ لوک سبھا کے اسپیکر کے خلاف اپوزیشن کی طرف سے داخل کردہ تحریک عدم اعتماد کے اس نوٹس میں لگائے گئے الزامات کی جانچ کی جائے گی۔ تحقیقاتی عمل کے بعد سکریٹریٹ کی طرف سے نوٹس پر مزید کارروائی پر غور کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق، تحریک عدم اعتماد کا یہ نوٹس آرٹیکل 94(c) کے تحت مسٹر اوم برلا کو عہدے سے ہٹانے کے لیے پیش کیا گیا ہے ۔ ان پر ایوان کی کارروائی جانبدارانہ طور پر چلانے کا الزام لگایا گیا ہے ۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ حکمراں جماعت کے ارکان کو ایوان میں بولنے کے لیے کافی وقت دیتے ہیں جب کہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو بولنے کا موقع تک نہیں دیا جاتا اور انہیں بار بار اور غیر ضروری طور پر روکا جاتا ہے ۔ اس میں 2 فروری اور 3 فروری کی تفصیلات فراہم کرکے کہا گیا ہے کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی کو صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر جاری بحث کے دوران بولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اپوزیشن کے نوٹس میں مسٹر اوم برلا کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں انہوں نے صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کا جواب دینے کے لئے لوک سبھا سے وزیر اعظم نریندر مودی کی غیر حاضری کی وجہ بتائی ہے ۔ تین صفحات کے اس نوٹس پر پہلے دستخط کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال کے ہیں۔ اس کے بعد ڈی ایم کے کے ٹی آر بالو اور پھر سماج وادی پارٹی کے دھرمیندر یادو نے دستخط کیے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ آٹھ اپوزیشن ارکان کو صرف اپنے آئینی حقوق استعمال کرنے پر معطل کیا گیا، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ اسپیکر کے منصب کا احترام کرتی ہیں، لیکن ایوان کی کارروائی جس انداز میں چلائی جا رہی ہے اس سے نہ صرف جمہوریت بلکہ پارلیمانی روایات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ اب اس نوٹس پر قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور اگلا فیصلہ لوک سبھا میں طے شدہ طریقۂ کار کے تحت ہوگا۔

اوم برلا فی الحال ایوان کی صدارت نہیں کریں گے
نئی دہلی، 10 فروری (یو این آئی) اسپیکر لوک سبھا اوم برلا نے تحریک عدم اعتماد کے نوٹس کی جانچ کا عمل جلد شروع کرنے کو کہا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اس وقت تک ایوان کی کارروائی کی صدارت نہیں کریں گے جب تک تحریک عدم اعتماد سے متعلق سارا معاملہ حل نہیں ہو جاتا ہے ۔کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے آج اوم برلا پر ایوان کی کارروائی چلانے میں جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے لوک سبھا سکریٹریٹ میں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس پیش کیا۔
لوک سبھا میں کانگریس کے چیف وہپ کے سریش نے لوک سبھا کے سکریٹری جنرل اتپل کمار سنگھ کو تحریک عدم اعتماد کا نوٹس پیش کیا، جس میں مسٹر اوم برلا کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس تحریک پر کانگریس کے 99 ارکان کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں ڈی ایم کے ، سماج وادی پارٹی اور ترنمول کانگریس سمیت کل 118 ارکان نے دستخط کئے ہیں۔ جبکہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے دستخط نہیں ہیں۔ سکریٹریٹ کے ذرائع نے مزید بتایا کہ مسٹر اوم برلا نے تحریک عدم اعتماد کے نوٹس کی جانچ کا عمل جلد شروع کرنے کو کہا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اس وقت تک ایوان کی کارروائی کی صدارت نہیں کریں گے جب تک تحریک عدم اعتماد سے متعلق سارا معاملہ حل نہیں ہو جاتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق مسٹر اوم برلا نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس دیا ہے اور اس معاملے کے حل ہونے تک ایوان کی کارروائی چلانا ان کے لیے اخلاقی طور پر نامناسب ہے ۔ لوک سبھا کے اسپیکر کے خلاف اپوزیشن کی طرف سے داخل کردہ تحریک عدم اعتماد کے نوٹس میں لگائے گئے الزامات کی جانچ کی جائے گی۔ قواعد کے مطابق تفتیشی عمل کے بعد سکریٹریٹ اس نوٹس پر مزید کارروائی پر غور کرے گی۔ ذرائع کے مطابق تحریک عدم اعتماد کا یہ نوٹس آرٹیکل 94(C) کے تحت مسٹر اوم برلا کو اپنے عہدے سے ہٹانے کے لیے دیا گیا ہے ۔ ان پر ایوان کی کارروائی جانبدارانہ طور پر چلانے کا الزام ہے ۔