چیف منسٹر کے ریمارکس پر ہریش راؤ کا اعتراض، اسمبلی احاطہ اور گن پارک پر احتجاج
حیدرآباد ۔2 ۔ جنوری (سیاست نیوز) بی آر ایس ارکان نے تلنگانہ اسمبلی سے بطور احتجاج واک آؤٹ کردیا کیونکہ موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ پر چیف منسٹر ریونت ریڈی کے جواب کے بعد اسپیکر نے بی آر ایس ارکان کو ضمنی سوالات کی اجازت نہیں دی۔ وقفہ سوالات میں موسیٰ ندی ترقیاتی منصوبہ سے متعلق سوال کا وزیر آئی ٹی ڈی سریدھر بابو نے ابتداء میں جواب دیا ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے مداخلت کرکے پراجکٹ کی تفصیلات اور حکومت کے منصوبہ سے واقف کرایا۔ چیف منسٹر نے جواب کے دوران بی آر ایس ارکان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ موسیٰ ندی کی آلودگی سے زیادہ حکومت کے خلاف بی آر ایس ارکان کے پیٹ میں زہر بھرا ہے۔ چیف منسٹر کے جواب کے فوری بعد بی آر ایس کے ڈپٹی لیڈر ہریش راؤ نے ضمنی سوال کی اجازت طلب کی۔ اسپیکر نے وزیر پنچایت راج سیتکا کو دوسرے سوال کا جواب دینے کی ہدایت دی اور کہا کہ ضمنی سوالات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسپیکر نے سرینواس یادو ، سبیتا اندرا ریڈی اور سنیتا لکشما ریڈی کو اظہار خیال کی اجازت دی اور دوسرے سوال پر استفسار کی ہدایت دی۔ بی آر ایس ارکان کے احتجاج پر ہریش راؤ کو مائیک دیا گیا۔ ہریش راؤ نے چیف منسٹر کے ریمارکس پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ اپوزیشن سے چیف منسٹر کے خلاف کوئی ریمارک نہیں کیا گیا باوجود اس کے چیف منسٹر نے بی آر ایس ارکان کو نشانہ بنایا ہے۔ چیف منسٹر کے بارے میں ہریش راؤ کے ریمارک کے ساتھ ہی اسپیکر نے مائیک بند کردیا جس پر بی آر ایس ارکان نے نشستوں سے اُٹھ کر احتجاج کیا۔ اسپیکر کی جانب سے مائیک نہ دیئے جانے پر بی آر ایس نے بطور احتجاج ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ احتجاجی ارکان نے اسمبلی کے انٹرنس پر دھرنا منظم کیا اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی۔ احتجاجی ارکان نے گن پارک پہنچ کر دھرنا دیا اور اسپیکر پر جانبدارانہ رویہ کا الزام عائد کیا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ ایوان میں تمام ارکان کو یکساں حقوق حاصل ہے۔ اسپیکر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ارکان کے حقوق کا تحفظ کریں ۔ انہوں نے کہا کہ بزنس اڈوائزری کمیٹی اجلاس میں 7 جنوری تک اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن اسمبلی میں پیش کردہ رپورٹ میں اسپیکر کو یہ اختیار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا ایجنڈہ رات دیر گئے پہنچایا جارہا ہے جس سے بی آر ایس ارکان تیاری کے موقف میں نہیں ہیں۔ ہریش راو کی قیادت میں بی آر ایس نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔1
اسمبلی کے سرمائی سیشن کا بائیکاٹ
بی آر ایس کا سنسنی خیز فیصلہ ۔ ہریش راؤ نے کیا اعلان
حیدرآباد ۔ 2 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس نے تلنگانہ اسمبلی کے سرمائی سیشن کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا سنسنی خیز فیصلہ کیا ہے ۔ اس فیصلے کا اعلان سابق ریاستی وزیر ہریش راؤ نے گن پارک پر احتجاج کے دوران میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ اسپیکر کے رویے اور حکومت کے طرز عمل کے خلاف احتجاج کے طور پر بی آر ایس نے اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جس انداز میں اسمبلی اجلاس کا انعقاد کیا جارہا ہے ۔ وہ قانون ساز اسمبلی کے قواعد کی سراسر خلاف ورزی ہے ۔ بی ار ایس کے رکن اسمبلی نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بی اے سی اجلاس میں دیڑھ گھنٹہ تاخیر سے پہونچی اور اپوزیشن ارکان اسمبلی کو ایوان میں بات کرنے کا بھی مناسب موقع نہیں دیا جارہا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریونت ریڈی نے اسمبلی کو انتشار کا شکار بنادیا ہے اور ایوان اسمبلی کو گاندھی بھون اور کانگریس لیجسلیچر پارٹی میٹنگ میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ چیف منسٹر اسمبلی میں غیر ذمہ دارانہ اور غیر معیاری زبان کا استعمال کررہے ہیں ۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اپوزیشن قائدین چیف منسٹر پر تنقید کریں تو اسے کیوں روکا جارہا ہے ۔ ہریش راؤ نے مثال دیتے ہوئے دریافت کیا کہ کیا راہول گاندھی نے پارلیمنٹ میں وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید نہیں کی ۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ریاست میں RR ٹیکس نافذ ہے اور ہر کام میں کمیشن وصول کیا جارہا ہے ۔ حکومت ایک منظم سازش کے تحت اپوزیشن ارکان اسمبلی کو خاموش کرارہی ہے۔ جو جمہوری اقدار کے خلاف ہے ۔ ہریش راؤ نے واضح کیا کہ جب تک اپوزیشن کو اظہار خیال کی آزادی اور اسمبلی کے قواعد کی پاسداری نہیں کی جاتی پارٹی اپنا احتجاج جاری رکھے گی ۔۔ 2
