مرکز نے کوئی تعاون نہیں کیا ، شہر کی ترقی کے لیے مرکزی بجٹ میں 7800 کروڑ منظور کیا جائے
حیدرآباد ۔ 25 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے مرکزی حکومت پر شہر حیدرآباد کی ترقی کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے ابھی تک 20 مرتبہ 2 اسکائی ویز تعمیر کرنے محکمہ دفاع کی اراضی تلنگانہ حکومت کے حوالے کرنے مرکز سے مطالبہ کیا گیا ۔ اراضی کے بدلے نقد رقم یا اراضی کے بدلے اراضی دینے کا پیشکش کیا گیا مگر مرکزی حکومت نے اس پر کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ۔ بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت شہر حیدرآباد کی ترقی کے لیے آج تک ایک پیسہ کی مدد نہیں کی اور نہ ہی کسی طرح کا کوئی تعاون کیا ۔ مرکزی حکومت کے تعاون کے بغیر تلنگانہ حکومت حیدرآباد کو ترقی دے رہی ہے ۔ ترقیاتی کاموں میں جو رکاوٹیں ہیں ان کو دور کرنے کی بار بار نمائندگی کرنے کے باوجود کوئی تعاون نہیں کیا ہے ۔ سکندرآباد میں ٹریفک مسائل کی یکسوئی کے لیے اسکائی وے تعمیر کرنے کا بہت پہلے منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔ دو اسکائی ویز کی تعمیرات کے لیے 5 ہزار کروڑ روپئے کا تخمینہ تیار کیا گیا ہے ۔ مگر مرکزی حکومت دفاعی اراضی دینے کے معاملے میں کوئی تعاون نہیں کررہی ہے ۔ فروری میں پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے والے بجٹ میں شہر حیدرآباد کے لیے 7800 کروڑ روپئے مختص کرنے کی نمائندگی کی گئی ہے ۔ گجرات میں سیلاب آنے پر فوری مدد کی گئی مگر حیدرآباد کے سیلاب کو مرکز نے نظر انداز کردیا ۔ انہوں نے تلنگانہ کے ارکان پارلیمنٹ کو بجٹ سیشن کے دوران تلنگانہ اور حیدرآباد سے انصاف کے لیے بڑے پیمانے پر جدوجہد کرنے کا مشورہ دیا ۔۔ ن