اسکالر شپ کے ای۔ پاس سرور، نیشنل پورٹل میں نقص

   

ہزار ہا درخواستیں التواء کا شکار، درخواستوں کا ادخال مسدود
حیدرآباد۔/10 نومبر، ( سیاست نیوز) طلبہ کی اسکالر شپ کے معاملہ میں اب سرکاری نہیں بلکہ تکنیکی رکاوٹیں طلبہ کیلئے وبال جان بن گئی ہیں۔ نئی اسکالر شپ درخواستوں کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں اسکالر شپ تجدید کا معاملہ بھی زیر التواء ہوگیا ہے جس سے طلبہ برادری کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسٹیٹ اسکالر شپ ای ۔ پاس سرور، نیشنل پورٹل میں درخواستیں مکمل کرنے کے باوجود اصل وقت جب درخواستوں کی قبولیت کا ہوتا ہے سرور میں خامی سے درخواستیں قبول ہی نہیں ہوپارہی ہیں۔ سارا دن اسی کام پر صرف کرنے کے بعد چند افراد اپنی درخواست کو قبول کروانے میں کامیاب ہورہے ہیں بلکہ اکثریت ناامیدی کے سبب پریشانیوں کا شکار ہوگئی ہے۔ سال 2021-22 تعلیمی سال کیلئے ایس سی، ایس ٹی، بی سی ، معذورین، میناریٹی، ای بی سی کیلئے اسکالر شپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع کے باوجود مسائل کی عدم یکسوئی سے طلبہ کو اسکالر شپ کا حصول غیر یقینی ہوگیا ہے۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کی درخواستوں کا عمل تھم گیا ہے جبکہ رینول40 فیصد سے زائد نہیں ہورہا ہے۔ درحقیقت ای پاس ویب سائیٹ کے ذریعہ درخواست درج کروانا کئی رکاوٹوں اور مسائل کا سبب بن رہا ہے۔ گریٹر حیدرآباد میں پوسٹ میٹرک اسکالر شپ رینول کیلئے 96,887 طلبہ نے درخواستیں داخل کیں۔ سال 2021-22 کیلئے تعلیمی سال کیلئے تقریباً 2,46,984 طلبہ اسکالر شپ کیلئے اہل قرار پائے جس میں 1,50,097 طلبہ نے اسکالر شپ درخواستوں کا رینول کردیا۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں موجود اضلاع کا جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ حیدرآباد میں 1,04430 طلبہ کی تعداد میں سے 46,094 طلبہ نے درخواستیں داخل کیں جبکہ میڑچل ملکاجگیری ضلع میں 95,287 طلبہ میں سے 57,365 طلبہ نے رنگاریڈی ضلع میں 95,267 طلبہ میں سے46,638 طلبہ نے ہی اسکالر شپ کیلئے درخواستیں داخل کی۔ پوسٹ میٹرک اسکالر شپ داخل کردہ نئی درخواستیں اس طرح ہیں۔ ع
ضلع
ایس سی
ایس ٹی
بی سی
معذورین
ای بی سی
میناریٹی
حیدرآباد
716
222
2390
0
99
2295
میڑچل
192
57
705
1
38
167
رنگاریڈی
257
135
586
0
20
238