اسکواش لیجنڈ اعظم خان کا 95 برس میں کورونا سے انتقال

   

Ferty9 Clinic

لندن ۔ 29مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) عالمی شہرت یافتہ اسکواش لیجنڈ اعظم خان 95 برس کی عمر میں لندن میں انتقال کرگئے۔ گزشتہ ہفتے ان کا کورونا وائرس ٹسٹ مثبت آیا تھا۔اعظم خان لیجنڈ جہانگیر خان کے والد روشن خان کے رشتہ دار تھے۔ پشاور کے علاقے نواکلی سے تعلق رکھنے والے اعظم خان نے 1959 سے 1962 کے دوران چار بار برٹش اوپن جیتنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ہاشم خان ان کے بڑے بھائی تھے، جنہوں نے اس کھیل میں اعظم خان کو متعارف کروایا تھا۔ اعظم خان اور ہاشم خان کے درمیان 1954، 1955 اور 1958 برٹش اوپن کے فائنلس میں مقابلہ ہوا لیکن جیت ان کے بڑے بھائی کے حق میں رہی لیکن اس کے بعد اپنے کھیل میں مہارت کے باعث وہ 1959 سے 1962 تک مسلسل چار برٹش اوپن خطابات اور1962 میں یو ایس اوپن جیتنے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔اعظم خان کی بیٹی کارلا خان نے خواتین اسکواش میں شہرت حاصل کی انہوں نے متعدد عالمی مقابلوں میں حصہ لیا۔ اعظم خان کے بڑے بھائی ہاشم خان کا 2014ء میں نیویارک میں انتقال ہوا تھا۔ ہاشم خان نے سات مرتبہ برٹش اوپن کا خطاب بھی اپنے نام کیا تھا۔اعظم خان کے انتقال پر اسکواش لیجنڈ جہانگیر خان نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعظم خان پاکستان اسکواش کا بڑا نام تھے۔ ان کے انتقال پرافسوس ہوا ہے۔ اعظم خان پاکستان کے ان چار ابتدائی اسکواش کھلاڑیوں روشن خان، ہاشم خان اور محب اللّٰہ میں شامل تھے جنہوں نے پاکستان اسکواش کی تاریخ رقم کی اور پاکستان کے قیام کے صرف تین سال بعد ہی اسے اسکواش عالمی چمپئن بنوایا۔ ان چاروں کھلاڑیو ں نے 1950ء سے 1963ء تک عالمی اسکواش پر حکمرانی کی۔