حکومت کے احکامات جاری، طلبہ کی تعداد 50 سے کم ہونے پر انگریزی سیکشن بند کردیا جائے گا
طلبہ کی تعداد کے لحاظ سے ٹیچرس کی خدمات، محکمہ تعلیم نے رہنمایانہ خطوط جاری کئے
حیدرآباد 18 اگست (سیاست نیوز( ریاست میں حکومت نے 6 سال بعد اساتذہ کے ریشنلائزیشن (معقولیت) نظام پر عمل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ایک ہی احاطہ میں موجود اسکولس کو ایک دوسرے میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کونسے اسکولس کو کس میں ضم کیا جائے اس کے لئے رہنمایانہ خطوط تیار کئے گئے ہیں اور اس فیصلے پر عمل آوری کے لئے 12 اگست کو جی او 25 جاری کیا گیا جو پانچ دن بعد منگل کو منظر عام پر آیا ہے۔ ٹیچرس کو منتخب کرنے کے طریقہ کار کے عمل کا گزشتہ تعلیمی (2020-21) سے یونیفائیڈ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن انفارمیشن سسٹم (UDIS) کے تحت کیا گیا ہے جس کا انحصار طلبہ کی تعداد پر مشتمل ہوگا۔ اس نظام پر عمل آوری سے ٹیچرس کے نئے جائیدادیں نکلیں گی۔ موجودہ ٹیچرس کی جائیدادوں کو منسوخ نہ کرنے کا جی او میں تذکرہ کیا گیا ہے۔ ریاست میں سال 2015 میں ریشنلائزیشن کے لئے جو رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے تھے۔ اس پر اب عمل آوری ہو رہی ہے۔ اس نئے نظام پر موثر عمل آوری کے لئے کلکٹر کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کے صدرنشین کلکٹر ہوں گے۔ ڈی ای او سکریٹری کے فرائض انجام دیں گے۔ ارکان میں ایڈیشنل کلکٹر، ضلع پریشد سی ای او اور ساتھ ہی آئی ٹی ڈی اے پراجکٹ عہدیدار شامل رہیں گے۔ ایک ہی احاطہ میں پرائمری اور سکنڈری اسکولس موجود رہے تو دونوں کو پرائمری اسکولس میں ضم کردیا جائیگا۔ اگر کوئی پرائمری، ہائی اسکول ہے تو پرائمری کے 6 کلاسیس کو ہائی اسکول میں ضم کردیا جائے گا۔ یو پی ایس (UPS) میں اول تا پنجم کلاسیس کو پرائمری اسکول کے طور پر رکھا جائے گا۔ اگر لڑکے اور لڑکیوں کے ہائی اسکولس ہیں تو انہیں ضم نہیں کیا جائے گا۔ اگر ایک ہی جگہ پرائمری سکنڈری اور ہائی اسکولس ہیں تو وہ پرائمری اور سکنڈری اسکولس میں تبدیل ہو جائیں گے۔ اگر انضمام کے بعد اساتذہ کی تعداد زیادہ ہے تو ان کی خدمات ضرورت کے مطابق دوسرے اسکولس کے لئے حاصل کی جائیں گی۔ اردو اور دوسرے میڈیم کے اسکولس کو ایک دوسرے میں ضم نہیں کیا جائے گا۔ اسکولس میں ضرورت سے زیادہ ٹیچرس ہوں تو جونیر ٹیچر کو پہلی سینیارٹی ٹیچرہیں تو زائد کے طور پر شناخت کیا جائے گا۔ اگر سینئر ٹیچر اسکول نہیں چھوڑیں گے تو اسی پوسٹ کو فاضل کے طور پر شناخت کیا جائے گا اور دوسرے اسکولس کو تبادلہ کردیا جائے گا۔ اگر وہاں کا ٹیچر نابینا ہے اور کسی ٹیچر کے 8 سال مکمل نہیں ہوئے ہیں تو اس کی رضامندی کے بغیر اس کو فاضل جائیداد کے طور پر نہیں دکھایا جائے گا۔ اس نئے نظام پر عمل آوری کے لئے جاری کردہ رہنمایانہ خطوط میں بتایا گیا ہیکہ تلگو میڈیم کے ساتھ متوازی طور پر انگلش میڈیم ہائی اسکول کے متوازی کلاسیس چلتے ہیں تو اور اگر ان میں طلبہ کی تعداد 50 سے کم ہوتی ہے تو ان انگلش میڈیم کے طلبہ کو قریبی دوسرے اسکولس میں داخل کرادیا جائے گا اور یہاں انگریزی میڈیم اسکول کو بند کردیا جائے گا اور وہاں موجود فاضل اساتذہ کا دوسرے اسکولس کو تبادلہ کردیا جائے گا۔ پرائمری اسکولس میں ہیڈ ماسٹر کا عہدہ صرف اس صورت میں منظور کیا جائے گا جب طلبہ کی تعداد 150 سے تجاوز کر جائے۔ طلبہ کی تعداد کم ہے تو اسے سکنڈری گریڈ ٹیچر کی جائیدادوں میں ملاکر ریشنلائزیشن کے طور پر شمار کیا جائے گا۔ N
