اولیائے طلبہ اور سرپرستوں میں بے چینی ، محکمہ تعلیمات کی لاپرواہی
حیدرآباد۔9جون(سیاست نیوز) ریاست میں اسکولوں کی کشادگی کے عمل کے ساتھ ہی خانگی اسکولو ںکی من مانیوں کی شکایات منظر عام پر آنے لگی ہے اور محکمہ تعلیم کی جانب سے اختیار کی جانے والی لا پرواہی کے سبب اولیائے طلبہ و سرپرستو ںمیں بے چینی پائی جاتی ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ہر سال اس بات کا اعلان کیا جا تاہے کہ ریاست میں خانگی اسکولوں کی من مانی کو چلنے نہیں دیا جائے گا اور جن اسکولوں کی جانب سے تجارتی سرگرمیاں انجام دی جا رہی ہیں ان اسکولوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے سال2015 کے دوران بعض اسکولو ںمیں جہاں اسٹیشنری اور یونیفارمس کی فروخت انجام دی جا رہی تھی ان کے خلاف کاروائی بھی کی گئی لیکن اس کے بعد سے دونوں شہروں میں ہی نہیں بلکہ ریاست کے تمام اضلاع میں تعلیمی اداروں کی تجارتی سرگرمیو ںکوکھلی چھوٹ فراہم کردی گئی ہے جس کے سبب ریاست کے تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والے سرپرست خانگی اسکول انتظامیہ کے مظالم کا شکار ہونے لگے ہیں۔ریاستی حکومت کو اسکولوں میں من مانی فیس کی وصولی کے خلاف کاروائی انجام دینے کیلئے جگانے کئی حربے اختیار کئے گئے اور اس دوران چیف منسٹر کو بھی مکتوبات روانہ کرتے ہوئے اس بات سے واقف کروایا گیا لیکن اس کے باوجود بھی محکمہ تعلیم اور حکومت کی جانب سے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے گئے ۔ تعلیمی سال 2019-20 کی شروعات آئندہ چند یوم میں ہونے جا رہی ہے اور شہر کے سرکردہ اسکولوں میں 20تا30 فیصد فیس میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے اور یونیفارم اور کتابوں کی اسکولوں کے ذریعہ ہی کسی ایک مقام پر فروخت کی جا نے لگی ہے اور اولیائے طلبہ وسرپرست مجبور ی کی حالت میں انتظامیہ کے ہر فیصلہ سے اتفاق کر رہے ہیں۔خانگی اسکولوں کی جانب سے ہر سال کتب تبدیل کرتے ہوئے اس بات کو ممکن بنایا جا رہا ہے کہ سال گذشتہ کے کتب کوئی طالب علم استعمال نہ کرپائے جبکہ خانگی بجٹ اسکول ان سرگرمیوں سے خود کو پاک رکھے ہوئے ہیں اور کارپوریٹ ادارو ںمیں یہ سرگرمیاں عام ہوتی جا رہی ہیں۔کارپوریٹ اسکولو ںمیں فیس میں من مانی اضافہ کی گنجائش سے استفادہ کیا جار ہاہے اور جب محکمہ تعلیم سے خانگی اسکولوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے تو وہ خانگی بجٹ اسکولوں کو نشانہ بناتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے کاروائی کی جار ہی ہے اور اس کاروائی کے نتیجہ کے طور پر بجٹ اسکولو ںکے خلاف کی گئی کاروائی کو دکھا یا جار ہاہے۔بتایا جاتا ہے کہ حکومت کے بعض انتہائی اہم گوشوں کی جانب سے ریاست میں موجود کارپوریٹ اداروں کے خلاف کاروائی نہ کرنے کی ہدایت کے سبب محکمہ تعلیم کو ان کارپوریٹ اداروں کے خلاف متعدد شکایات موصول ہونے کے باوجود بھی کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے اور محکمہ تعلیم کے عہدیداربھی اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ کاروائی کرنے سے قاصر ہیں۔تمام منڈلوں میں خدمات انجام دینے والے عہدیدار اس بات سے واقف ہیں کہ کس اسکول کی تجارتی سرگرمیاں کہاں ہیں؟
