اولیائے طلبہ کو فیس ادا کرنے ایس ایم ایس ، اسکول انتظامیہ کی ہراسانی پر شکایت کا موقع
حیدرآباد۔18مئی(سیاست نیوز) خانگی اسکول انتظامیہ کی جانب سے فیس کی وصولی کے سلسلہ میں ایس ایم ایس کی روانگی کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے جبکہ ابھی ریاستی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے سلسلہ میں کوئی واضح اعلان نہیںکیا گیا ہے اور نہ ہی 29مئی کے بعد فوری اسکولوں کی کشادگی کے کوئی آثار ہیں ۔ عام طور پر تعلیمی سال کا آغاز اسکولوں میں 12جون سے ہوجاتا ہے لیکن اس مرتبہ تعلیمی سال 2020-2021کے آغاز کے امکانات موہوم ہیں اور کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے رہنمایانہ خطوط کی اجرائی کے بعد ہی تعلیمی سال کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا ۔ حکومت تلنگانہ نے اس سلسلہ میں تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی اسکولوں نے اس سلسلہ میں کوئی منصوبہ تیار کیا ہے لیکن خانگی اسکولوں کی جانب سے کتب کی فروخت اور فیس کی وصولی کے سلسلہ میں ایس ایم ایس کے ذریعہ اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کو مطلع کیا جانے لگا ہے حالانکہ ریاستی ومرکزی حکومت کی جانب سے اب تک بھی تعلیمی ادارۂ جات کی کشادگی یا ان کی بحالی کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ خانگی اسکولوں کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ وہ روایتی انداز میں اپنے تعلیمی سال کا آغاز کرنے کے حق میں ہیں اور ان کی جانب سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ تعلیمی سال 2020-21 معمول کے مطابق شروع کیا جائے لیکن سرکاری عہدیدارو ںکا کہناہے کہ وہ ایسا کرنے کی قطعی اجازت نہیں دے سکتے کیونکہ اسکولوں کی کشادگی کے ساتھ ہی گہما گہمی اور ہجوم کا آغاز ہوجائے گا۔ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے تعلیمی ادارہ جات کے خلاف اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کی جانب سے شکایت درج کروائی جاسکتی ہے اور ان شکایات کے ازالہ کے لئے محکمہ تعلیم کو سخت ہدایات جاری کردی گئی ہیں ۔ اسکولی تعلیم کے سلسلہ میں جاری کئے جانے والے رہنمایانہ خطوط کے سلسلہ میں کہا جا رہا ہے کہ شہر حیدرآباد میں ہی نہیں بلکہ ریاست تلنگانہ کے تمام اضلاع کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے رہنمایانہ خطوط کی تیاری عمل میں لائی جانا باقی ہے اورایسے میں کسی اسکول کی جانب سے کتب کی فروخت یافیس کی وصولی کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو وہ غیر قانونی تصور کئے جائیں گے اور اگر کوئی تعلیمی ادارہ ان حرکات میں ملوث پایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ان کے خلاف کاروائی کی گنجائش ہوگی اور حکومت نے واضح طور پر انتباہ دیا ہے کہ اگر کوئی اس طرح کی حرکات میں ملوث ہوتا ہے اور طلبہ ‘ اولیائے طلبہ یا سرپرستوں کو ہراسانی کا مرتکب بنتا ہے تو ایسی صورت میں اسکول کی مسلمہ حیثیت ختم کردی جائے گی اور اسکول کو مہر بند کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ خانگی اسکول انتظامیہ کے ذمہ داروں نے بتایا کہ جون کے وسط یا اواخر میں اسکولوں کی کشادگی کی انہیں توقع ہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا ہے اور اسکولوں کی کشادگی جولائی یا اگسٹ میں ہوتی ہے تو اس کا نقصان نہ صرف طلبہ بلکہ اساتذہ اور تعلیمی اداروں کوبھی ہوگا اسی لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ اسکولوں کی کشادگی کے سلسلہ میں جلد از جلد رہنمایانہ خطوط تیار کرتے ہوئے اسکولوں کے ذمہ دارو ںکو اس بات کا پابند بنانے سے قبل انہیں وقت فراہم کریں تو وہ تیاریاں کرپائیں گے۔