آن لائین امتحانات اور پروموشن کا مطالبہ، جاریہ تعلیمی سال کے بارے میں شبہات
حیدرآباد: تلنگانہ میں کورونا لاک ڈاؤن کے بعد سے ابھی تک اسکولوں میں باقاعدہ تعلیم کا آغاز نہیں ہوا ہے۔ ایسے میں اولیائے طلبہ بچوں کے تعلیمی سال کو لے کر فکرمند ہیں۔ حکومت کی جانب سے ڈسمبر میں 9 ویں تا 12 ویں جماعت کی محدود کلاسس کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن کورونا کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس فیصلہ کو موخر کیا گیا ۔ نویں اور بارھویں جماعت کے طلبہ کے تعلیمی سال کے سلسلہ میں فکرمند سرپرستوں نے کہا ہے کہ گزشتہ سال کی طرح طلبہ کو امتحانات کے بغیر پروموٹ کیا جانا چاہئے کیونکہ کلاسس کا آغاز ممکن نہیں ہے ۔ اولیائے طلبہ نے آن لائین امتحانات کے انعقاد کی تجویز پیش کی ہے ۔ اسکولوںکی جانب سے آن لائین کلاسس میں اب تک جو بھی اسباق پڑھائے گئے ہیں، ان کے مطابق امتحانات منعقد کئے جاسکتے ہیں۔ اولیائے طلبہ کی اسوسی ایشن نے کہا کہ نویں تا بارھویں جماعت کے طلبہ اپنے مستقبل کے اہم موڑ پر ہوتے ہیں، لہذا ان کے تعلیمی سال کو ضائع نہیں کیا جاسکتا۔ امتحانات کے انعقاد کیلئے کم از کم 90 دنوں تک کلاسس کا اہتمام ضروری ہے۔ کئی اسکولوں نے حکومتوںکی اجازت کے بعد نرسی تا دسویں جماعت تک کیلئے آن لائین کلاسس کا آغاز کیا ہے ۔ کلاسس کے آغاز کے بعد اولیائے طلبہ کو فیس کی ادائیگی کیلئے مجبور کیا جارہا ہے ۔ اسکول انتظامیہ نے ٹیچرس کی تعداد میں کمی کردی ہے اور باقاعدہ کلاسس کے آغاز تک ٹیچرس کی بحالی کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ موجودہ صورتحال میں اولیائے طلبہ نے تعلیمی فیس میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔