مقامی ٹیچر کے مکتوب کو ہائی کورٹ نے مقدمہ میں تبدیل کردیا
حیدرآباد۔/28 جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے ترکیمجال میونسپلٹی کے حدود میں سرکاری اسکول کی اراضی پر ناجائز قبضوں کے سلسلہ میں بلدی حکام کو کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ اسکول کے ایک ٹیچر نے اراضی کے تحفظ کیلئے گورنر اور تلنگانہ ہائی کورٹ کو مکتوب روانہ کیا۔ حکام کی جانب سے اراضی کے تحفظ میں ناکامی پر گورنر اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو مکتوب روانہ کیا گیا۔ ہائی کورٹ نے مکتوب کو از خود کارروائی کے ذریعہ مقدمہ میں تبدیل کرتے ہوئے حکومت کو نوٹس جاری کی۔ اراضی کے بارے میں موقف داخل کرنے چار ہفتے کی مہلت دی گئی۔ واضح رہے کہ ترکیمجال میونسپلٹی کے کما گوڑہ میں ایک خانگی کمپنی نے 1998 میں غریب طلبہ کیلئے اسکول کی تعمیر کے مقصد سے 20 گنٹے اراضی بطور عطیہ دی تھی۔ عہدیداروں نے اس وقت اراضی کے ایک حصہ پر اسکول تعمیر کیا اور فنڈز کی کمی کے باعث باقی اراضی کو کھلا چھوڑ دیا گیا۔ علاقہ میں اراضی کی موجودہ مالیت 12 کروڑ بتائی جاتی ہے۔ اسکول کیلئے اراضی الاٹمنٹ کے 25 سال مکمل ہوگئے اور اطراف میں کئی کالونیاں بس چکی ہیں۔ کالونیوں کو راستہ کی کمی کے نام پر اسکول کی اراضی پر سڑک تعمیر کی گئی جس کے نتیجہ میں اسکول اور طلبہ کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ مقامی عہدیداروں سے بارہا نمائندگی کی گئی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اسکول کے ایک ٹیچر نے 25 جون کو گورنر اور چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ کو مکتوب روانہ کیا۔ ہائی کورٹ نے کلکٹر، ضلع ایجوکیشن آفیسر، میونسپل ، ریوینیو اور سروے عہدیداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اندرون چار ہفتے جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہائی کورٹ کی نوٹس کے بعد عہدیداروں نے علاقہ کا دورہ کیا اور اراضی کے تحفظ کا جائزہ لیا۔1