اسکول انتظامیہ و ٹیچرس تنظیمیں فزیکل کلاسیس کے حامی

   

حکومت فیصلہ پر نظرِ ثانی نہ کرے، دیہی علاقوں اور غریب طلبہ کیلئے آن لائن کلاسیس ممکن نہیں
حیدرآباد۔ حکومت کی جانب سے یکم جولائی سے اسکولوں میں فزیکل کلاسیس کے بجائے آن لائن کلاسیس سے متعلق امکانی فیصلہ پر تلنگانہ یونائٹیڈ ٹیچرس فیڈریشن نے ردعمل کا اظہار کیا۔ فیڈریشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کوویڈ قواعد کے ساتھ اسکولوں میں فزیکل کلاسیس کے آغاز کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ فزیکل کلاسیس کے آغاز کا فیصلہ نہ صرف طلبہ بلکہ اساتذہ کے حق میں رہے گا۔ فیڈریشن نے کہا کہ حکومت نے پہلے یکم جولائی سے فزیکل کلاسیس کا اعلان کیا تھا لیکن اب اس فیصلہ پر نظرثانی کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے بھی کوویڈ قواعد کے ساتھ کلاسیس کے اہتمام پر اعتراض نہیں کیا ہے۔ فیڈریشن کے جنرل سکریٹری سی ایچ روی نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں خاص طور پر دیہی علاقوں کے طلبہ کو کلاسیس سے محرومی کے نتیجہ میں بھاری نقصان ہوا۔ دیہی علاقوں میں آن لائن کلاسیس کی سہولت نہیں ہے جس کے نتیجہ میں غریب طلبہ تعلیم سے دور ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں کے طلبہ کی انفرااسٹرکچر سہولتوں میں کمی کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت کو فزیکل کلاسیس کے آغاز کا فیصلہ کرنا چاہیئے۔ تلنگانہ کے مسلمہ اسکولوں کے انتظامیہ کی اسوسی ایشن نے بھی اسکولوں کے آغاز کا مطالبہ کیا ہے۔ اسوسی ایشن نے کہا کہ صرف آن لائن کلاسیس کے فیصلہ سے خانگی بجٹ اسکولوں کی تیاریاں متاثر ہوں گی اور چھوٹے اسکولوں کو بھاری نقصان ہوگا۔ اسکولوں کیلئے گائیڈ لائنس کی اجرائی سے قبل حکومت کا اپنے فیصلہ پر نظرثانی کرنا طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ کئی بجٹ اسکولوں نے کلاسیس کے آغاز کیلئے تیاریاں شروع کردیں اور اساتذہ کو تنخواہیں ادا کی گئیں۔