حیدرآباد :۔ اسکول بیاگس کا وزن کلاس اول تا دہم کے لیے طلبہ کے جسمانی وزن کا 10 فیصد سے زائد نہیں ہونا چاہئے اور کلاس دوم تک کوئی ہوم ورک نہیں دیا جانا چاہئے ۔ مرکزی وزارت تعلیم کی اسکول بیاگ پالیسی 2020 میں یہ بھی سفارش کی گئی کہ اسکولس میں باقاعدہ طور پر اسکول بیاگ کے وزن کی نگرانی کرنی ہوگی ۔ بیاگس دو پیاڈ کے ساتھ ہلکے وزن کے ہونے چاہئے اور تسمے دونوں کندھوں پر ٹھیک طور پر آنے چاہئے اور پہیوں والے بیاگس کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے کیوں کہ اس سے بچوں کو ضرر پہنچ سکتا ہے ۔ اس پالیسی میں یہ بھی سفارش کی گئی کہ ہر نصابی کتاب کے وزن کو پبلیشر کی جانب سے کتاب پر پرنٹ کیا جانا چاہئے ۔ یہ سفارشات نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (NCERT) کی جانب سے کئے گئے متعدد سروے اور گہرے جائزہ کی اساس پر کی گئی ہیں ۔ اس پالیسی میں کہا گیا کہ اس میں 352 اسکولس کے 3,624 طلبہ اور 2992 پیرنٹس سے حاصل کی گئی معلومات کا تجزیہ کیا گیا جن میں کیندرا ودیالیاس اور ریاستی حکومت کے اسکولس شامل ہیں ۔ سروے میں دیکھا گیا کہ چہارم کلاس تک کے بچے دو تا تین کلو گرام وزن کے بیاگس کے ساتھ اسکول آرہے ہیں جو عالمی سطح پر تسلیم کئے گئے وزن سے زیادہ ہے ۔ عالمی سطح پر اسکول بیاگ کے وزن کو بچے کے جسمانی وزن کا 10 فیصد قبول کیا جاتا ہے اور اس پر عمل کیا جاتا ہے ۔ نیز بچے جب بڑی کلاسیس میں جاتے ہیں تو بیاگ کا بوجھ بڑھ جاتا ہے ۔ سروے میں معلوم ہوا کہ اشیاء جیسے نصابی کتب ( 500 گرام تا 3.5 کلو گرام ) ، نوٹ بکس ( 200 گرام تا 2.5 کلو گرام ) ، لنچ باکس ( 200 گرام تا 1 کلو گرام ) اور پانی کا بوتل ( 200 گرام تا ایک کلو گرام ) کی وجہ زائد بوجھ ہورہا ہے ۔ خالی بیاگس کا وزن بھی 150 گرام تا 1 کلو گرام پایا گیا ۔ ان کی اور دیگر معلومات کی اساس پر ’ اسکول بیاگ سے متعلق پالیسی 2020 ‘ میں بیاگس کے وزن پر 11 سفارشات کی گئیں ۔ اسٹوڈنٹس کے وزن کے 10 فیصد وزن کے اسکول بیاگس کی پابندی کرنے پر زور دیتے ہوئے اس پالیسی میں اسکولس میں اچھے معیار کا مڈ ڈے میل اور پانی کی فراہمی کی بھی سفارش کی گئی ۔۔