حیدرآباد۔23۔اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے اسکول کے درخواست فارمس میں مذہب اور ذات کی خانہ پری کے سلسلہ میں داخل کی گئی درخواست مفاد عامہ پر فیصلہ کرتے ہوئے اس کی یکسوئی کردی اور کہا کہ اس سلسلہ میں اگر کسی فرد یا افراد کو مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے تو وہ عدالت سے رجوع ہوسکتا ہے۔ چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ جسٹس آلوک ارادھے اور جسٹس جے سرینواس راؤ پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے گذشتہ یوم ڈی وی راما کرشنا راؤ کی جانب سے داخل کی گئی درخواست مفاد عامہ اور محکمہ تعلیم حکومت تلنگانہ کی جانب سے داخل کئے گئے جواب کا جائزہ لینے کے بعد درخواست کی یکسوئی کردی۔عدالت کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے بعد محکمہ تعلیم حکومت تلنگانہ نے عدالت میں داخل کئے گئے اپنے جواب میں کہا کہ اس سلسلہ میں درخواست گذار نے سابق میں 2010 اور 2021 میں بھی رٹ درخواست داخل کی تھی اور عدالت کی ہدایت کے بعد محکمہ تعلیم کی جانب سے اس لزوم کو برخواست کردیاگیا تھا ۔ درخواست گذار نے اپنی درخواست میں اسکول میں داخلہ کے فارمس میں مذہب اور ذات کے خانہ کو حذف کرنے کی خواہش کی تھی ۔ محکمہ تعلیم نے عدالت میں داخل کئے گئے جواب میں کہا کہ کسی بھی بچہ کو مذہب یا ذات کے عدم انکشاف کی بنیاد پر داخلہ سے محروم نہیں کیا جا رہاہے اور مذہب اور ذات کے انکشاف کا کوئی لزوم عائد نہیں ہے۔ محکمہ تعلیم کے جواب کا جائزہ لینے کے بعد چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ جسٹس آلوک ارادھے اور جسٹس سرینواس راؤ نے درخواست مفاد عامہ کی یہ کہتے ہوئے یکسوئی کردی کہ اس سلسل میں محکمہ تعلیم کی جانب سے کوئی لزوم عائد نہیں کیا جا رہاہے اور نہ ہی یہ تفصیلات اسکول میں داخلہ کے لئے فراہم کرنی ضروری ہے۔3