واشنگٹن :ایک امریکی اسلحہ ساز کمپنی، اندھا دھند فائرنگ کے واقعہ کی ذمہ داری کے تناظر میں 73 ملین ڈالر کا ہرجانہ ادا کرنے پر تیار ہو گئی ہے۔امریکہ میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔اے آر 15 رائفل بنانے والی امریکی کمپنی ریمنگٹن آرمز پر 2012 میں ایک ایلمنٹری اسکول میں ہونے والی خوفناک اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں مرنے والوں کے لواحقین نے مقدمہ کیا تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ گنز بنانے والی ایک کمپنی کو امریکا میں فائرنگ کے کسی واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔نو متاثرہ خاندانوں کی طرف سے دائر کردہ مقدمے میں امریکی اسلحہ ساز فیکٹری ریمنگٹن نے 73 ملین ڈالر ادا کرنے کی حامی بھرلی ہے۔ یہ کمپنی اے آی 15 رائفلز تیار کر کے مارکیٹ کرتی ہے۔ 2012 میں نیوٹن کنیکٹیکٹ کے سینڈی ہک ایلمنٹری اسکول میں فائرنگ کرنے والے ایڈم لانزا نے اسی طرح کی رائفل کا استعمال کیا تھا جس میں 20 طالب علم اور چھ استاد مارے گئے تھے۔یہ پہلا موقع ہے کہ گنز بنانے والی کسی کمپنی کو امریکہ میں پیش آنے والے اندھا دھند فائرنگ کے واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔امریکہ کا وفاقی قانون اسلحہ بنانے والی کمپنیوں کو ان کے بنائے گئے اسلحہ کے حوالے سے کافی زیادہ استثنی دیتا ہے۔2012 میں نیوٹن کنیکٹیکٹ کے سینڈی ہک ایلمنٹری اسکول میں فائرنگ کے واقعہ میں 20 طالب علم اور چھ استاد مارے گئے تھے۔