حیدرآباد ۔ 26 نومبر (سیاست نیوز) چادرگھاٹ میں تقریباً 1000 مربع گز کھلی اراضی محکمہ تعلیمات اور حیدرآباد میٹرو ریل لمیٹیڈ (HMRL) کے درمیان بحث و تکرار کا موضوع بن گئی۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب گورنمنٹ سٹی ماڈل اسکول، چادرگھاٹ کے طلبہ اور ٹیچرس نے چہارشنبہ کو اس مقام پر تعمیر شروع کرنے ایک کنٹراکٹرس کی کوشش کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ جب اسکول انتظامیہ نے کنٹراکٹر سے اس بارے میں دریافت کیا تو اس نے دعویٰ کیا کہ ایچ ایم آر ایل نے اسے اس اسکول سے متصل پلے گراونڈ پر ایک پارکنگ ایریا بنانے کا تعمیری کام تفویض کیا ہے۔ یہ مسئلہ ڈپٹی ایجوکیشنل آفیسر حیدرآباد کے دفتر میں پہنچنے کے بعد، سید مکرم نے اس کنٹراکٹر کے خلاف ڈی ای او کو شکایت پیش کی، جس پر انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ ڈی ای او وینکٹ نرسمہا نے بتایا کہ انہوں نے اس سلسلہ میں کلکٹر اور ایچ ایم آر ایل کو بھی شکایت روانہ کی اور کلکٹر سے اس مسئلہ کو حل کرنے کی درخواست کی۔ ڈسٹرکٹ کلکٹر کی ہدایت کے باوجود حیدرآباد میٹرو ریل نے پلے گراؤنڈ اسکول مینجمنٹ کے حوالہ نہیں کیا۔ 2019ء میں کلکٹر سے کی گئی ایک نمائندگی کے بعد انہوں نے ایچ ایم آر ایل کے منیجنگ ڈائرکٹر کو مکتوب تحریر کرتے ہوئے پلے گراؤنڈ اسکول مینجمنٹ کے حوالہ کردینے کیلئے کہا تھا لیکن ایچ ایم آر ایل نے احکام کو نظرانداز کردیا۔ تاہم ایچ ایم آر ایل کے عہدیداروں نے اس طرح کا کوئی کام شروع کرنے سے انکار کیا ہے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ’’کسی کنٹراکٹر کو ایچ ایم آر ایل کی جانب سے کوئی کام تفویض نہیں کیا گیا ہے کیونکہ مینجمنٹ کو اس مسئلہ پر ہنوز کوئی فیصلہ کرنا ہے‘‘۔ چہارشنبہ کو گورنمنٹ اسکول، چادرگھاٹ کے طلبہ اور مقامی لوگوں نے کنٹراکٹرس کے خلاف احتجاج کیا اور انہیں اس مقام سے چلے جانے کیلئے مجبورکیا جبکہ وہ لوگ کام شروع کرنے والے تھے۔