اسکول کے باتھ روم میں خفیہ کیمرہ برآمد

   

کراچی۔ پاکستان کے شہر کراچی کے ایک پرائیویٹ اسکول کے بیت الخلاء میں خفیہ کیمروں کے ذریعہ خواتین کی ویڈیو فوٹیج بنانے کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے ) نے اس پر صوبائی محکمہ تعلیم کی سرزنش کی ہے ۔ اس کے بعد اسکول کے خواتین کے واش روم میں خفیہ کیمروں کے انکشاف کے بعد انتظامیہ کی جانب سے مؤقف کی غیر تسلی بخش وضاحت پر سندھ کے محکمہ تعلیم نے اسکول کی رجسٹریشن معطل کردی۔ صفورا گوٹھ کی اسکیم 33 میں واقع اسکول کی ایک ٹیچر نے 3 نومبر کو صوبائی محکمہ تعلیم سے شکایت کی تھی کہ انہوں نے اسکول کے واش روم میں خفیہ کیمرے دیکھے ہیں اور انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔اس کے بعد محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کی ایک انکوائری کمیٹی نے اسکول کا دورہ کیا اور واش روم کی دیواروں میں خفیہ کیمرے نصب پائے ۔ محکمہ تعلیم سندھ کے ایک حکم نامے کے مطابق چھپے ہوئے سی سی ٹی وی کیمرے ایک چادر کے پیچھے نصب کیے گئے تھے ۔ جن میں لڑکیوں اور لڑکوں کے بیت الخلا کے ساتھ واقع واش بیسن کے حصے میں سوراخ کیے گئے تھے تاکہ مرد و خواتین پر مشتمل طلبہ اور عملہ کی حرکات و سکنات کو آسانی سے دیکھا جاسکے ۔ ڈائریکٹوریٹ کی ایک انکوائری کمیٹی نے اسکول انتظامیہ کو نوٹس جاری کیا جس میں اس کے پرنسپل یا سینئر اہلکار کو 4 نومبر کو محکمہ کے سامنے پیش ہونے اور اپنے موقف کی وضاحت کرنے کو کہا گیا۔ تاہم اسکول کا کوئی ذمہ دار وضاحت کے لیے حاضر نہیں ہوا۔