اشتعال انگیز تقاریر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی میں حکومت ناکام

   

Ferty9 Clinic


کے سی آر بی جے پی سے خوفزدہ، کانگریس قائد سمیر ولی اللہ کا الزام
حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد کانگریس کمیٹی میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین سمیر ولی اللہ نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ بی جے پی اور مجلس کی جانب سے فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنے کی کوششوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بلدی انتخابات میں بی جے پی اور مجلس کی جانب سے اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعہ انتخابی مہم کو فرقہ وارانہ رنگ دیا گیا اور دونوں پارٹیوں نے سیاسی فائدہ حاصل کیا ۔ پولیس نے اشتعال انگیز تقاریر کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جس سے عوام میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ حکومت فرقہ پرست عناصر پر قابو پانے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ سمیر ولی اللہ نے کہا کہ صدر ریاستی بی جے پی اور مجلس کے رکن اسمبلی کے خلاف 28 نومبر کو رسمی طور پر مقدمات درج کئے گئے لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی جس کے نتیجہ میں فرقہ پرست عناصر کے حوصلے بلند ہیں۔ پولیس مقدمات سے قائدین میں کوئی ڈر و خوف باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی حلیف جماعت ہونے کے سبب مجلس کے خلاف کارروائی سے کے سی آر خوفزدہ ہیں ۔ دوسری طرف مرکز کی بی جے پی حکومت سے ڈرتے ہوئے بی جے پی قائدین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی عدم دلچسپی کے نتیجہ میں بلدی انتخابات کی مہم فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر گئی۔ سمیر ولی اللہ نے کہا کہ چیف منسٹر کو چاہئے کہ وہ اشتعال انگیز تقاریر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیلئے پولیس کو ہدایت دیں۔ انہوں نے بلدی انتخابات کے دوران اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ تقاریر کرنے والے قائدین کے خلاف مقدمات کی تفصیلات جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ سمیر ولی اللہ نے کہا کہ بلدی انتخابات میں کمزور مظاہرہ کے بعد ٹی آر ایس حکومت بی جے پی سے خوفزدہ ہے۔ حال ہی میں جگتیال میں بی جے پی کارکنوں نے تلواروں کے ساتھ مظاہرہ کیا تھا لیکن بی جے پی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔