اشتعال انگیز نعرہ بازی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا

   

پولیس صرف تحقیقات میں مصروف ۔ پرامن ملین مارچ پر درجنوں مقدمات درج کئے گئے تھے
حیدرآباد ۔ 3فبروری ( سیاست نیوز) حیدرآباد میں شہریت ترمیمی قانون کی تائید میں منعقدہ جلسہ میں اشتعال انگیزی کے خلاف سٹی پولیس تحقیقات میں جُٹ گئی ہے ۔ تاہم اس اشتعال انگیزی کے خلاف تاحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ۔ پُرامن فضاء کو مکدر کرنے اور منافرت پھیلانے والی نعرہ بازی پر حیدرآباد پولیس کی خاموشی معنی خیز دکھائی دیتی ہے ۔ حیدرآباد میں موافق سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی کی تائید کا یہ پہلا جلسہ تھا جس کی اجازت دینے کے بعد پولیس اشتعال انگیز نعروں پر قابو پانے میںناکام ثابت ہوگئی ۔ حالانکہ اکھنڈ بھارت سنگھرش سمیتی کی جانب سے منعقدہ اس جلسہ کے آخر میں لگائے گئے اشتعال انگیز نعرہ ’ دیش کے غداروں کو گولی مارو سالو ں کو‘ کو سوشل میڈیا پر وائرل کردیا گیا تھا ۔ موافق سی اے اے جلسہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈروں نے شرکت کی اور جلسہ کے اختتام پر ماحول کو بگاڑنے کے مترادف نعرے بازی کی گئی ۔ تاہم اس کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا ۔ یہاں پولیس کے رویہ کو مشکوک ظاہر کرنے والی بات یہ ہے کہ ملین مارچ کے نام پر منعقدہ ریالی میں لاکھوں افراد کی شرکت کے باوجود کوئی اشتعال انگیزی نہیں ہوئی ، سوائے حب الوطنی اور مخالف سی اے اے نعروں کے کوئی مذہبی اور کسی کے جذبات کو متاثر کرنے والا نعرہ نہیں لگایا گیا ۔ ملین مارچ پوری طرح پرامن رہا ۔ باوجود اس کے درجنوں مقدمات درج کئے گئے لیکن موافق سی اے اے جلسہ میں اشتعال انگیزی کے باوجو د کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا جبکہ یہاں کی بڑی علاقائی برسراقتدار جماعت اور حکومت تلنگانہ خود سی اے ، این پی آر اور این آر سی کی مخالفت کا اعلان کرچکی ہے ۔