ماضی میں بھی قیدیوں کے تبادلے ہوتے رہے ہیں امن کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا
بی بی سی کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں وزیرخارجہ پاکستان کے تاثرات
اسلام آباد ۔ 3 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان نے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان معاہدے کے تحت قیدیوں کی رہائی کے فیصلے کو فریقین میں اعتماد کی بحالی کی جانب ایک کوشش کے طور پر دیکھتا ہے اور افغان صدر کو بھی اس معاملے پر کھلے دل سے غور کرنا چاہیے۔بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ماضی میں بھی قیدیوں کے تبادلے ہوتے رہے ہیں اور ’اگر یہ تبادلہ ماحول کو سازگار بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے تو میرے خیال میں صدر اشرف غنی کو فراخدلی سے اس پر غور کرنا چاہیے۔‘دوحہ میں افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے میں پانچ ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا گیا تھا تاہم اتوار کو افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ ان کی حکومت نے طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا وعدہ نہیں کیا اور افغان حکومت ہی اس بارے میں فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’امن کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، مذاکرات میں بھی مشکلات تھیں۔ مگر امید ہے کہ فریق معاہدے پر پختگی سے قائم رہیں گے۔‘انھوں نے کہا اس تمام امن عمل کے دوران امریکہ ’صدر اشرف غنی کو گاہے بگاہے اعتماد میں لیتا رہا ہے اور ان سے مشاورت جاری رکھی گئی تھی۔‘انھوں نے بتایا کہ دوحہ میں اس وقت ایک چھ رکنی افغان وفد موجود ہے جو قیدیوں کی رہائی سے متعلق بات چیت کر رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’قیدیوں کا تبادلہ یکطرفہ تو نہیں ہو گا بلکہ دونوں جانب سے قیدی رہا کیے جائیں گے۔‘خیال رہے کہ طالبان نے کہا ہے کہ وہ بین الافغان مذاکرات میں اس وقت تک نہیں بیٹھیں گے جب تک 5000 قیدی رہا نہیں کیے جاتے، جبکہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مطابق دس مارچ کو بین الافغان مذاکرات شروع ہونے سے پہلے 5000 طالبان قیدی اور ایک ہزار دیگر قیدیوں کی رہائی عمل میں لائی جائے گی۔تاہم افغانستان کی حکومت کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے ہیں کہ قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ افغان حکومت مذاکرات کے دوران کرے گی۔وزیر خارجہ نے گذشتہ ہفتے دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے اور اس کے بعد پاکستان کی توقعات اور خدشات پر تفصیلی بات کی۔
