جی ایچ ایم سی سے نمونوں کی جانچ ، اچانک دھاوے اور کارروائی متوقع
حیدرآباد۔16فروری(سیاست نیوز) حیدرآباد میں فروخت کی جانے والی اشیائے خورد و نوش میں 10 فیصد اشیائے خورد و نوش غیر معیاری اور صحت کے لئے مضر ہیں ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں فروخت کی جانے والی مختلف اشیاء کے زائد از 926 نمونوں کی جانچ کے بعد مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں نے بتایا کہ دونوں شہروں میں 10 فیصد اشیائے خورد و نوش غیرمعیاری پائے گئے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ چند یوم کے دوران دونوں شہروں میں مزید نمونوں کے حصول کے ذریعہ ان کی جانچ کی جائے گی۔ جی ایچ ایم سی کے شعبہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ مختلف شکایات موصول ہونے کے بعد کئے گئے سروے کے دوران جی ایچ ایم سی عملہ کی جانب سے محض سرکردہ ریستوراں اور برانڈس کے نمونے حاصل کئے گئے ہیں جن میں 10 فیصد اشیاء غیر معیاری ثابت ہوئی ہیں اور ان غیر معیاری اشیاء کو بہتر بنانے کی تاکید کی جا رہی ہے۔ چیف میڈیکل آفیسر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے بتایا کہ شہر حیدرآباد میں موجود سرکردہ ہوٹلوں میں سربراہ کی جانے والی اشیاء میں 10 فیصد اشیاء ناقابل استعمال ہیں ۔ فوڈ سیفٹی اینڈسیکیوریٹی اتھاریٹی آف انڈیا کے مطابق گذشتہ تین ماہ کے دوران جی ایچ ایم سی حدود میں مجموعی اعتبار سے 6000 سے زائد اشیائے خورد ونوش کے نمونوں کی جانچ کی جاچکی ہے اور ان میں 9فیصد کے قریب ایسی اشیاء پائی گئی ہیں جو کہ انسانی صحت کیلئے مضر ہیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ جو اشیاء ناقابل استعمال پائی گئی ہیں ان میں بڑی تعداد میں اشیائے خورد و نوش ملاوٹ شدہ ہیں یا پھر ایسی اشیاء ہیں جن کے استعمال کی مدت ختم ہونے کے باوجود استعمال کی جا رہی ہیں ۔ م