وصول شدہ رقم واپس بھی حاصل کی جائے ۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی سخت ہدایات
حیدرآباد 26 فبروری ( سیاست نیوز ) چیف منسٹر مسٹر اے ریونت ریڈی نے ہدایت جاری کی کہ خانگی اسکولس اگر قوانین سے زیادہ فیس وصول کرتے ہیں تو ان کے اجازت نامے منسوخ کئے جائیں اور جو اضافی رقومات وصول کی گئی ہیں ان کو واپس حاصل کیا جائے ۔ محکمہ تعلیم پر ایک جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ ایک ویب سائیٹ پر اسی گنجائش فراہم کریں جہاں لوگ خانگی اسکولس میں فیس کے ڈھانچہ کو باقاعدہ بنانے اپنی تجاویز اور سفارشات پیش کرسکیں۔ واضح رہے کہ ریاست میں محکمہ تعلیم کا قلمدان خود چیف منسٹر کے پاس ہے ۔ ریاست بھر میں اولیائے طلباء کی جانب سے مسلسل شکایت کی جا رہی ہے کہ خانگی اسکولس کی جانب سے من مانی فیس وصول کی جا رہی ہے اور اس کو باقاعدہ بنائے جانے کی ضرورت ہے ۔ اولیائے طلباء کا اصرار تھا کہ اس معاملے میں ریاستی حکومت مداخلت کرے اور عوام کو بھاری فیس وصولی سے راحت فراہم کی جائے ۔ تقریبا ایک ماہ تلنگانہ ایجوکیشن کمیشن نے ایک بل کی تجویز پیش کی ہے تاکہ خانگی تعلیمی شعبہ میں فیس کو باقاعدہ بنایاجاسکے ۔ کمیشن نے سفارش کی ہے کہ حکومت کی جانب سے ایک خاص کمیشن اس مقصد کیلئے بنایا جائے ۔ پیر کو تعلیمی پالیسی چیف منسٹر کو پیش کی گئی تھی ۔ مارچ 2025 میں وزیر صحت دامودر راج نرسمہا نے اسمبلی میں کہا تھا کہ حکومت سے ایک فیس ریگولیٹری کمیٹی مقرر کی جائے گی جو خانگی اسکولس میں فیس کے معاملے کی نگرانی کرے گی ۔ کمیٹی نے اپنی تجاویز آج چیف منسٹر کو پیش کردیں۔