اضلاع اور شہر میں مانسون کی پہلی مسلسل بارش ‘ موسم خوشگوار

   

مزید چار دن بارش کی پیش قیاسی ۔ کچھ اضلاع کیلئے ریڈ الرٹ جاری ۔ درجہ حرارت میں کمی

حیدرآباد 18 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ اضلاع و دونوں شہروں میں مانسون کی پہلی مسلسل بارش نے موسم کو خوشگوار بنا دیا ۔ اضلاع بالخصوص شمالی اور شمال مشرقی اضلاع میں موسلادھار بارش گذشتہ شب سے جاری ہے جبکہ شہر میں گذشتہ شب سے ہلکی اور تیز بارش جاری ہے ۔ شدید بارش نہ ہونے سے کسی علاقہ میں بارش کا پانی جمع ہونے کی شکایات نہیں ملیں ۔ محکمہ موسمیات کی پیش قیاسی میں کہا گیا کہ بارشوں کا سلسلہ آئندہ 4یوم تک جاری رہے گا ۔محکمہ کی پیش قیاسی کے ساتھ تلنگانہ میں ریڈ الرٹ جاری کرکے بیشتر اضلاع میں شدید بارش کے امکانات ظاہر کئے ہیں۔ہوا کے دباؤ میں کمی کے سبب موسمی صورتحال پر ماہرین کا کہناہے کہ کئی اضلاع بالخصوص شمالی اور مشرقی اضلاع میں موسلادھار بارش کا امکان ہے اور یہ بارشوں کا سلسلہ دیگر اضلاع تک بھی پھیل سکتاہے۔ خانگی ماہرین نے پیش قیاسی میں بعض اضلاع میدک ‘ سنگاریڈی ‘ سدی پیٹ‘ جنگاؤں ‘ سوریہ پیٹ اور کھمم میں ریڈ الرٹ جاری گیا جبکہ دیگر اضلاع میں بھی مسلسل بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔محبوب آباد ‘ بھدادری کتہ گوڑم ‘ ورنگل‘ بھوپل پلی ‘ کریم نگر‘ منچریال‘ جگتیال ‘ سرسلہ ‘ عادل آباد‘ کاما ریڈی ‘ نظام آباد‘نرمل میں شدید بارش کی پیش قیاسی کی گئی جبکہ میڑچل ۔ ملکا جگری‘ رنگاریڈی ‘ حیدرآباد‘ نلگنڈہ ‘ ونپرتی‘ گدوال‘ نارائن پیٹ‘ وقارآباد‘ سنگاریڈی میں معمول کی بارش کا امکان ہے ۔محکمہ موسمیات کے مطابق خلیج بنگال میں طوفان کے نتیجہ میں نہ صرف تلنگانہ بلکہ پڑوسی آندھراپردیش کے سرحدی اضلاع میں بھی بارش ہوسکتی ہے ۔ حیدرآبادو سکندرآباد میں گذشتہ شب سے مسلسل ہلکی اور تیز بارش کے علاوہ بوندا باندی جاری ہے جس سے درجہ حرارت میں زائد از 10 ڈگری کی گراوٹ آئی ہے اور دن میں بھی درجہ حرارت 24 ڈگری ریکارڈ کیا گیا ۔جاریہ ہفتہ مسلسل بارش سے میں دونوں شہروں اور نواحی علاقوں و اضلاع میں درجہ حرارت میں گراوٹ آئی ہے۔صبح کی اولین ساعتوں سے ہی شہر کے تمام مقامات پر جاری بارش کے نتیجہ میں بعض مصروف ترین علاقوں میں ٹریفک جام دیکھی گئی ۔ مہدی پٹنم‘ جوبلی ہلز‘ مانصاحب ٹینک‘ بنجارہ ہلز‘ سکندرآباد‘ سوماجی گوڑہ ‘ بیگم پیٹ‘ پنجہ گٹہ ‘ ٹولی چوکی ‘ مادھاپور‘ اور دیگر علاقوں میں ٹریفک جام دیکھی گئی ۔ صبح اسکولی اوقات کے دوران ٹریفک جام سے طلبہ وقت پر اسکول نہیں پہنچ پائے اور کئی مصرف سڑکوں پر ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے کوئی پولیس اہلکار موجود نہیں تھا۔م