اطراف کی 27 بلدیات کے انضمام سے جی ایچ ایم سی ملک کا وسیع تر کارپوریشن

   

کارپوریشن کے حدود 2053 مربع کیلو میٹر ہوجائیں گے، شہر میں 3 نئے کارپوریشنوں کی تشکیل کا منصوبہ
حیدرآباد 27 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کی جانب سے حیدرآباد کے اطراف کی 27 میونسپلٹیز اور کارپوریشن کو گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں ضم کرنے کے فیصلہ سے جی ایچ ایم سی کا شمار ملک کے سب سے بڑے کارپوریشن کے طور پر ہوجائے گا۔ دہلی، ممبئی، چینائی، کولکتہ اور بنگلور بھی رقبہ کے اعتبار سے جی ایچ ایم سی سے کم ہوجائیں گے۔ ریاستی کابینہ نے گزشتہ دنوں اطراف کی 27 میونسپلٹیز اور کارپوریشنس کو جی ایچ ایم سی میں ضم کرنے کی منظوری دی ہے تاکہ حیدرآباد کو انفراسٹرکچر کے اعتبار سے عالمی ترقی یافتہ شہر کے طور پر ترقی دی جاسکے۔ جن میونسپلٹیز کو جی ایچ ایم سی میں ضم کیا جارہا ہے وہاں انضمام کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا گیا لیکن حکومت کا منصوبہ یہ ہے کہ جی ایچ ایم سی کو 3 یا 4 نئے کارپوریشنوں میں تقسیم کیا جائے۔ جی ایچ ایم سی کی موجودہ حدود 650 مربع کیلو میٹر ہے اور اطراف کے بلدیات کے انضمام سے اِس کا رقبہ 2053 مربع کیلو میٹر ہوجائے گا۔ انتظامی سہولتوں اور شہر کے اطراف ترقیاتی سرگرمیوں خاص طور پر فیوچر سٹی کے قیام کے پس منظر میں حکومت کا یہ فیصلہ اہمیت کا حامل ہے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن جسے 2022ء میں توسیع دی گئی، اُس کا مجموعی رقبہ 1397 مربع کیلو میٹر ہے۔ بنگلور 712 مربع کیلو میٹر، گریٹر ممبئی کارپوریشن 437 مربع کیلو میٹر، نوی ممبئی کارپوریشن 343 مربع کیلو میٹر، چینائی میونسپل کارپوریشن 426 مربع کیلو میٹر اور گریٹر وشاکھاپٹنم کارپوریشن 681 مربع کیلو میٹر پر محیط ہے۔ کرناٹک اور مہاراشٹرا کی طرز پر کارپوریشن کو تقسیم کرتے ہوئے تلنگانہ حکومت بھی بین الاقوامی سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کررہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 27 بلدی اداروں کے انضمام سے حیدرآباد میٹرو پولیٹن شہروں کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔ اُمید کی جارہی ہے کہ حکومت کے اِس فیصلہ سے شہر کے اطراف کی آبادیوں پر ٹیکس کے بوجھ میں اضافہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی عوامی نمائندوں کی جانب سے انضمام کی مخالفت کی جارہی ہے۔ حکومت نے توسیعی منصوبہ کی تکمیل کے بعد کارپوریشنوں کو 2 یا 3 اداروں میں تقسیم کرنے کے مسئلہ پر عہدیداروں سے رپورٹ طلب کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گریٹر حیدرآباد کے تحت زائد کارپوریشنوں کی موجودگی سے مرکزی وزارت شہری ترقیات کے فنڈس کے حصول میں مدد ملے گی۔ ملک کے مختلف بڑے شہروں میں کارپوریشنوں کی کارکردگی کا عہدیداروں کی جانب سے جائزہ لیا جارہا ہے تاکہ جی ایچ ایم سی کی تقسیم کی صورت میں نئے بلدی وارڈس کے تعین میں مدد ملے۔ ذرائع کے مطابق آبادی کے اعتبار سے کارپوریشنوں کی تشکیل عمل میں آئے گی اور ذرائع آمدنی کو یکساں طور پر تقسیم کیا جائے گا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ 27 بلدی اداروں کا انضمام حیدرآباد کو عالمی سطح پر اپنی شناخت بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔1