اظہار خیال کی آزادی سلب کرتے ہوئے کانگریس کارکنوں پر جھوٹے مقدمات

   

Ferty9 Clinic

اے آئی سی سی ترجمان ڈی شراون کا الزام، لاپتہ ہونے کے واقعات پر پولیس سے چوکسی کا مطالبہ

حیدرآباد۔/15 جون، ( سیاست نیوز) آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ترجمان ڈی شراون نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ حکومت اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ کانگریس کارکنوں پر جھوٹے مقدمات کے ذریعہ انہیں ہراساں کیا جارہا ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈی شراون نے کہا کہ ایک مشہور تلگو روزنامہ میں خبر شائع ہوئی کہ تلنگانہ میں اندرون 10 دن 548 افراد گمشدہ یا پھر لاپتہ ہوچکے ہیں جبکہ ڈائرکٹر جنرل پولیس نے 545 افراد کے لاپتہ ہونے کا اعتراف کیا اور کہا کہ ان میں سے 318 افراد کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں چلا ہے۔ ڈاکٹر شراون نے کہا کہ اس قدر بڑی تعداد میں افراد کا لاپتہ ہونا تشویش کا باعث ہے ان میں خواتین بھی شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور طالبات رات کے اوقات میں ملازمت کرتی ہیں لہذا اس طرح کے واقعات کا رونما ہونا تشویش میں اضافہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے نہ صرف چوکسی کی ضرورت ہے بلکہ عوام میں شعور بیدار کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں افراد کا لاپتہ ہونا پولیس کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ اخبار میں شائع شدہ خبر کے بارے میں عوام کو باخبر اور باشعور بنانے کیلئے یوتھ کانگریس کے ایک قائد وینکٹ نے فیس بک پر اس خبر کو پوسٹ کیا۔ سائبر کرائم پولیس نے وینکٹ اور ان کے دو ملازمین کو گرفتار کرتے ہوئے مختلف دفعات کے تحت مقدمہ دائر کیا ہے۔ شراون نے بتایا کہ کانگریس قائدین کے ایک وفد نے ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس لاء اینڈ آرڈر جتیندر سے ملاقات کرتے ہوئے یادداشت پیش کی اور یوتھ کانگریس قائدین پر مقدمات سے دستبرداری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ پولیس نے اخبار میں شائع خبر کی تحقیق اور ضروری کارروائی کرنے کے بجائے اس خبر کو عوام کی معلومات کیلئے عام کرنے والے یوتھ کانگریس قائدین کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی سوشیل میڈیا ٹیم کو ہراساں کرنا حکومت کا مقصد ہے تاکہ حکومت کے خلاف کسی بھی پوسٹ کو روکا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 100 افراد لاپتہ ہوئے جن میں 50 کا ابھی تک پتہ نہیں چلا۔ سائبرآباد میں 116 لاپتہ افراد میں 83 کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ہے۔ راچہ کنڈہ پولیس اسٹیشن کے حدود میں 87 افراد لاپتہ ہوئے جن میں 43 کا کوئی سراغ لگانے میں پولیس کامیاب نہ ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ ہونے کے واقعات میں اضافہ سے عوام میں خوف و دہشت کا ماحول پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اخبار میں شائع شدہ خبر کی تحقیق کے بجائے صرف تردید کرنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی پولیس حکومت اور عوامی نمائندوں کے تحفظ میں مصروف ہے۔ حیدرآباد میں سافٹ ویر کمپنیوں میں ملازمت کرنے والے نوجوان لڑکے ولڑکیوں کی اکثریت راتوں میں ڈیوٹی انجام دیتی ہے ان کے تحفظ پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔