بی آر ایس دور میں اقلیتوں کی نمایاں ترقی، سنگاریڈی اور میدک میں انتخابی مہم سے بی آر ایس قائد کا خطاب
حیدرآباد۔ 8 فروری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ کابینہ میں محمد اظہر الدین کی شمولیت بی آر ایس کی مرہون منت ہے۔ جوبلی ہلز کے ضمنی چناؤ میں کابینہ میں مسلم وزیر کی عدم شمولیت کے بارے میں بی آر ایس نے سوال کیا تھا جس کے بعد کانگریس نے اظہر الدین کو عجلت میں کابینہ میں شامل کرلیا۔ ہریش راؤ میدک اور سنگاریڈی کی مختلف بلدیات میں بی آر ایس کی انتخابی مہم سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت میں بی آر ایس کے سوال پر شمولیت کے لئے اظہر الدین کو چاہئے کہ وہ کے سی آر کی تصویر کو سلام کریں۔ انہوں نے کہا کہ اظہر الدین کی کابینہ میں شمولیت کو 3 ماہ مکمل ہوچکے ہیں لیکن انہیں ابھی تک کونسل کا رکن نہیں بنایا گیا۔ وزارت میں برقراری کے مزید 3 ماہ باقی ہیں اور اس مدت میں انہیں کونسل کی رکنیت نہیں دی گئی تو وزارت سے محروم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں اقلیتوں کی ترقی کے لئے غیر معمولی اقدامات کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کا دور اقلیتوں کی ترقی کا سنہری دور تھا جبکہ کانگریس کے دو برسوں میں اقلیتی اسکیمات ٹھپ ہوچکی ہیں۔ ہریش راؤ نے حکومت کے اشارہ پر کام کرنے والے پولیس عہدیداروں کو انتباہ دیا کہ اگر وہ اپنے رویہ کو تبدیل نہ کریں تو بی آر ایس برسر اقتدار آنے پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ہریش راؤ نے کہا کہ بعض پولیس عہدیدار انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایسے عہدیداروں کے نام گلابی کتاب میں درج کئے جارہے ہیں اور بی آر ایس برسر اقتدار آنے پر سود سمیت وصول کیا جائے گا۔ انہوں نے پولیس عہدیداروں کو انتباہ دیا کہ وہ بی آر ایس قائدین پر مقدمات اور ہراسانی سے باز آجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اشارہ پر کام کرنے والے پولیس عہدیداروں کے لئے بعد میں مشکلات پیدا ہوں گے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ کانگریس کو ووٹ نہ دینے کی صورت میں بنیادی سہولتوں سے محروم کی دھمکی دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی سہولتیں کسی حکومت کی جاگیر نہیں لہذا عوام کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہریش راؤ نے کہا کہ میدک اور سنگاریڈی میں کانگریس قائدین کبھی بھی عوام کے لئے دستیاب نہیں رہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی آر ایس تلنگانہ میں جلد ہی دوبارہ برسر اقتدار آئے گی۔ چیف منسٹر جو بلدی نظم و نسق کا قلمدان اپنے پاس رکھتے ہیں انہوں نے شہری علاقوں کی ترقی پر کوئی توجہ نہیں دی ہے اور آج ووٹ حاصل کرنے کے لئے مختلف اضلاع میں گھوم کر جھوٹے وعدے کررہے ہیں۔ 1