اظہر الدین کے وزارت سے استعفیٰ اور دوبارہ حلف برداری کی حکمت عملی

   

گورنر کوٹہ پر ناموں کی منظوری کیلئے حکومت کی مساعی، نومبر تک کونسل کی ایک بھی نشست خالی نہیں
حیدرآباد۔ 22 مارچ (سیاست نیوز) وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہر الدین کی کابینہ میں برقراری کے مسئلہ پر صورتحال غیر واضح ہے کیونکہ اظہر الدین کو قانون ساز کونسل کی رکنیت کے معاملہ میں قانونی رکاوٹوں کا حکومت کو سامنا ہے۔ جوبلی ہلز ضمنی چناؤ سے عین قبل اقلیتی رائے دہندوں کو خوش کرنے کے لئے اظہر الدین کو کابینہ میں شامل کیا گیا جبکہ وہ اسمبلی یا کونسل میں کسی بھی ایوان کے رکن نہیں ہیں۔ قانون ساز اداروں کی رکنیت کے بغیر 6 ماہ تک وزارت میں برقراری کی دستوری گنجائش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت نے اظہر الدین کو وزارت کا حلف دلایا۔ 30 اپریل کو 6 ماہ کی مدت ختم ہوگی اور اس وقت تک کونسل کی کوئی نشست خالی نہیں ہو رہی ہے جس پر اظہر الدین کا تقرر کیا جاسکے۔ کانگریس کے کسی رکن کو استعفے کی ترغیب بھی دی جائے تو الیکشن کمیشن کی جانب سے فوری ضمنی چناؤ کا امکان نہیں ہے۔ ایسے میں چیف منسٹر ریونت ریڈی نے متبادل حکمت عملی پر غور کرنا شروع کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نئی حکمت عملی کے تحت بجٹ سیشن کے بعد اظہر الدین وزارت سے استعفی دے دیں گے اور کچھ دن کے وقفہ کے بعد انہیں دوبارہ وزارت کا حلف دلایا جائے گا تاکہ مزید 6 ماہ تک وہ برقرار رہ سکیں۔ نومبر میں 3 نشستیں خالی ہو رہی ہیں اور ان میں سے ایک نشست پر اظہر الدین کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اس مسئلہ پر ریاست کے نئے گورنر شیوپرتاپ شکلا سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے تاکہ سابق گورنر کو روانہ کردہ دو ناموں کودنڈا رام اور اظہر الدین کی منظوری کی اپیل کی جاسکیں۔ سپریم کورٹ میں ایم ایل سی نشستوں کے مقدمہ کے باعث سابق گورنر جشنودیو ورما نے حکومت کے روانہ کردہ ناموں کی منظوری نہیں دی تھی حالانکہ سپریم کورٹ میں گورنر کو فیصلے کا اختیار دیا ہے۔ گورنر کی جانب سے ناموں کی عدم منظوری کی صورت میں واحد حل اظہر ا لدین کا استعفی رہے گا تاکہ کچھ دن کے وقفہ کے بعد دوبارہ کابینہ میں شمولیت کا حلف دلایا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ نومبر میں جن تین ارکان کونسل کی میعاد ختم ہو رہی ہے ان میں ایم ایل اے کوٹہ سے تعلق رکھنے والے بی دیانند، بسوراج ساریا اور جی وینکانا شامل ہیں۔ یہ تینوں بی آر ایس کے دور حکومت میں کونسل کے لئے منتخب ہوئے تھے۔ تاہم کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد دیانند اور بسوراج ساریا نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی نے ان دونوں کو کونسل میں ایک اور مرتبہ موقع دینے کا تیقن دیا تھا۔اگر دونوں دوبارہ کونسل کی رکنیت دی گئی تو ایک نشست خالی رہے گی جس پر اظہر الدین کو نامزد کیا جاسکتا ہے۔ 1