اعلانات میں ہیرو۔عمل آوری میں زیرو

   

Ferty9 Clinic

زیرو ایف آئی آر پالیسی پر ملازمین پولیس کی سردمہری، وہی چال بے ڈھنگی کے مترادف

حیدرآباد۔17 ۔اگست (سیاست نیوز) پولیس اسٹیشن کے تصور سے خوف کا خاتمہ ہونا چاہئے ۔ پولیس اسٹیشن سے رجوع ہونے پر انصاف کے یقین کا احساس ہونا چاہئے ۔ پولیس کی وردی سے محبت اور وردی والے سے دوستی کی خواہش پیدا ہونی چاہئے ۔ ان سب خیالات کو یقینی شکل دینے کیلئے ریاست تلنگانہ میں گزشتہ چند برسوں سے اعلیٰ پولیس عہدیداروں کی انتھک جدوجہد جاری ہے ۔ اس منصوبہ کے تحت ہی (زیرو ایف آئی آر) کے نظام کو رائج کیا گیا ۔ یعنی واردات اور واقعہ کسی بھی مقام پر ہو کسی بھی پولیس اسٹیشن میں اس کے خلاف شکایت درج کی جاسکتی ہے اور گزشتہ دو سال سے اس طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے مقدمات درج کئے جارہے ہیں ۔ تاہم یہ سلسلہ شائد چند عہدیداروں کے سبب دوبارہ تنقیدوں کا نشانہ بن گیا ۔ حالیہ دنوں پیش آئے دو علحدہ واقعات نے پولیس کے اس نظام کی قلعی کھول دی اور اعلیٰ حکام کو سوچنے پر مجبور کردیا ۔ اس نظام کو شمس آباد میں پیش آئے کیس کے بعد رائج کیا گیا۔ متاثرین کی جانب سے شکایت پر پولیس اسٹیشن حدود کے تنازعہ میں ایک پولیس اسٹیشن سے دوسرے پولیس اسٹیشن کو چکر کاٹنے پر انہیں مجبور کیا گیا ۔ اس واقعہ کا سخت نوٹ لیتے ہوئے ڈی جی پی مہیندر ریڈی نے فوری زیرو ایف آئی آر کے نظام کو رائج کردیا تھا یعنی اس نظام کے ذریعہ متاثرین کسی بھی پولیس اسٹیشن میں اپنی شکایت درج کرواسکتے ہیں جس کے بعد متاثرین کے متعلقہ حدود والے پولیس اسٹیشن یا پھر واردات کے حدود والے پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر کو منتقل کردیا جائے گا لیکن فوری طورپر کسی بھی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرلی جائے گی اور ایف آئی آر جاری کردیا جائے۔ ایکعرصہ تک بڑی مستعدی کے ساتھ اس طریقہ کار پر عمل کرنے کے بعد اب سرد مہری ظاہر کرنے کے پولیس ملازمین پر الزامات عائد کئے جارہے ہیں ، اس کی تازہ مثال ضلع محبوب نگر میں پیش آئے ایک واقعہ میں ملتی ہے ۔ گزشتہ دنوں ایک سنسنی خیز واقعہ میں متاثرین نے عصمت ریزی کی شکایت محبوب نگر ون ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں کروائی ۔ تاہم پولیس نے حدود کا بہانہ بناکر عصمت ریزی کے متاثرین کی شکایت درج کرنے سے انکار کردیا اور پھر متعلقہ پولیس اسٹیشن میں شکایت کرنے کا مشورہ دیا۔ واقعہ حیدرآباد کے گاندھی ہاسپٹل میں پیش آیا ۔ محبوب نگر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو گاندھی ہاسپٹل میں شریک کروایا گیا ۔ اس کے ساتھ بیوی اور سالی موجود تھے ۔ دو دن قبل مریض کی بیوی اور سالی کی عصمت ریزی کا ہاسپٹل کے ملازم اور چند افراد پر الزام عائد کیا گیا ۔ پیر کے دن یہ متاثرین اپنے آبائی مقام کے پولیس اسٹیشن سے رجوع ہوئے تھے جس کے بعد متاثرین نے چلکل گوڑہ پولیس اسٹیشن سے رجوع ہوتے ہوئے شکایت درج کروائی اور کل شام ایف آئی آر جاری کیا گیا جبکہ دوسرے واقعہ میں ایک ڈرائیور کو مقام واردات تک لے جانے کے بعد پولیس نے پاشاہ نامی شخص کو یہ کہتے ہوئے روانہ کردیا کہ یہ علاقہ ان کے حدود میں نہیں آتا اور اس کو باچوپلی پولیس اسٹیشن جانے کا مشورہ دیا۔ متاثرہ شخص جب باچو پلی پولیس سے رجوع ہوا تو باچو پلی پولیس نے اس سے ایک اور بہانا بنایا اور اتوار کے دن پولیس اسٹیشن آنے کی ہدایت دی ۔ اتوار کے دن ناسازیٔ صحت سے پریشان پاشاہ نے فون کیا اور پیر کے دن کیتھکٹیڈ کیابس اینڈ ڈرائیورس ویلفیر اسوسی ایشن کے صدر اور اراکین کے ساتھ پولیس اسٹیشن سے رجوع ہوا ۔A (سلسلہ صفحہ 6 پر)