اعلیٰ تعلیم کیلئے مسلمانوں کو ریاست گیر تحریک چلانا چاہیئے :نسیم خان

   

ممبئی : اعلی تعلیم کے حصول کے لیے مسلمانوں کو ریاست گیر تحریک چلانا چاہئے کیونکہ مختلف سرکاری رپورٹوں کے مطابق مسلمانوں کے تعلیمی حالات پسماندہ طبقات سے بھی بدتر ہے ، ان خیالات کا اظہار مہاراشٹر کانگریس کے کارگذار صدر اور سابق وزیر محمد عارف نسیم خان نے آج یہاں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی جانب سے سول سروسیس جیسے مشکل ترین امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے ملت کے ہونہار طلبہ سید محمدحسین، عائشہ قاضی اور شبینہ انصاری کی حوصلہ افزائی کے لیئے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔نسیم خان نے کہا کہ ریاست گیر سطح پر چلائے جانے والی تحریک کے لیئے جمعیۃ کو پہل کرنا ہوگی اور ایک جانب جہاں جمعیۃ مستحق طلبہ کو تعلیمی وظائف دیتی ہے وہیں انہیں اس ضمن میں کام کرنا ہوگا کہ ہر مسلم خاندان سے کم از کم ایک بچہ اعلی تعلیم حاصل کرے جس میں پروفیشنل تعلیم بھی شامل ہے ۔انہوں نے جمعیۃ کے کاموں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ بیاسی سال کی عمر میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے جمعیۃ علماء کی جانب سے فلاحی وہ راحتی کاموں کے لیئے بلا تفریق مذہب و ملت جو کام کا بیڑا اٹھایا ہے اس کی قومی سطح پر علیحدہ شناخت ہے اسی کے ساتھ ساتھ ملک کی گنگا جمنی تہذہب کو برقرار رکھنے کے لیئے جمعیۃ کی جو کوششیں ہیں وہ آج کے تنگ نظر اور پر آشوب دور میں کسی نعمت سے کم نہیں ہے ۔کامیاب طلبہ سے خصوصی طور پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایک فرض شناس افسر کا رول ادا کریں جس سے ملک و قوم کا نام روشن ہوسکے ۔انہوں نے کامیاب شدہ طلبہ میں دو سے طلبہ کے ا نتہائی مفلسی اور جھوپٹی میں قیام کرنے کے باوجود ملک کے مشکل ترین امتحان متعد د کوششوں کے بعد کامیابی حاصل کرنے پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہاکہ قوم کے نو نہالوں کو ان بچوں سے ترغیب حاصل کرنا چاہئے ۔