حیدرآباد۔24 ۔اگست (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں اعلیٰ تعلیمی نشستوں کی بھرتی میں معاشی پسماندہ طبقات کیلئے (ای ڈبلیو ایس) کوٹہ کی عمل آوری سوال بن گئی ہے ۔ جاریہ تعلیمی سال اس کوٹہ کے تحت نشستوں کے الاٹمنٹ کے طلبہ اور ان کے سرپرست منتظر ہیں اور بے چینی سے سرکاری احکامات کا انتظام کر رہے ہیں جبکہ آج ہی کے دن سے ای سیٹ کی کونسلنگ کا آ غاز ہوگیا ہے ۔ تاہم اس سلسلہ میں محکمہ تعلیم کی جانب سے رہنمایانہ خطوط پر مبنی جی او کی اجرائی عمل میں نہیں آئی ۔ نشستوں کے الاٹمنٹ میں ای ڈبلیو ایس کوٹہ کے نفاذ سے تاحال کوئی احکام کی اجرائی عمل میں نہ لانا تشویش کا سبب بنا ہوا ہے ۔ جاریہ سال 23 ہزار طلبہ نے ای سیٹ میں شرکت کی اور تقریبا ً 2,000 طلبہ نے ای ڈبلیو ایس کوٹہ کے تحت اپنے آپ کو مستحق قرار دیتے ہوئے درخواستیں داخل کیں۔ گزشتہ سال (2020-21) کے کوٹہ پر عمل آوری کیلئے ہزاروں طلبہ منتظر تھے لیکن انہیں مایوسی ہوئی۔ مرکزی حکومت کے احکامات کے مطابق 2020-21 ء تعلیمی سال سے ریاست میں ای ڈبلیو ایس کوٹہ پر عمل آوری کی جانی چاہئے ۔ عہدیداروں نے پہلے اس اقدام میں پہل کی اور دستخط کیلئے فائل کو چیف منسٹر سے رجوع کردیا تاکہ منظوری حاصل کی جاسکے اور نشستوں کے الاٹمنٹ میں معاشی طور پر پسماندہ طبقات کو 10 فیصد حصہ مختص کیا جائے جس پر عمل آوری نہیں کی گئی ۔ جنوری میں چیف منسٹر نے اس اسکیم پر عمل آوری کا حکم دیا اور فروری میں جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ (جی اے ڈی) کی جانب سے اس سلسلہ میں جی او کی اجر ائی عمل میں لائی گئی ۔ جی او کی اجرائی کے بعد اس پر عمل آوری کیلئے محکمہ تعلیم کی جانب سے رہنمایانہ خطوط کی اجر ائی عمل میں لانی چاہئے ۔ تاہم محکمہ تعلیم کی جانب سے کسی قسم کے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے اور مسئلہ تعطل کا شکار ہوگیا۔
