اعلیٰ تعلیم کے حصول پر کرناٹک میں اقلیتی طلبہ کو قرض کی اجرائی

   

ایم بی بی ایس داخلہ پر 5 لاکھ اور پوسٹ گریجویشن کیلئے 30 لاکھ قرض کی فراہمی، وزیر اقلیتی بہبود ضمیر احمد خاں کا اعلان
حیدرآباد ۔7۔ ستمبر (سیاست نیوز) کرناٹک کی تلنگانہ حکومت نے اقلیتی طلبہ کیلئے قرض فراہمی کی نئی اسکیم کا اعلان کیا ہے۔ کرناٹک میناریٹی ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور ڈائرکٹوریٹ آف مینارٹیز کی جانب سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ کرناٹک کے وزیر اقلیتی بہبود ضمیر احمد خاں نے کہا کہ اقلیتوں کی ترقی صرف تعلیم کے ذریعہ ممکن ہے۔ بہتر تعلیم کے ذریعہ تابناک مستقبل کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی طبقہ کے بااثر افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقلیتوں میں تعلیم کے رجحان کو عام کرنے پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک کی کانگریس حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے اقلیتی طلبہ کی مدد کا فیصلہ کیا ہے ۔ حکومت نے سرکاری کوٹہ کے تحت ایم بی بی ایس کی نشست حاصل کرنے والے طلبہ کو بطور قرض 3 لاکھ روپئے کی رقم کو بڑھاکر 5 لاکھ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسلمہ یونیورسٹیز میں پوسٹ گریجویشن کرنے والے اقلیتی طلبہ کو 20 لاکھ روپئے قرض فراہم کیا جاتا تھا جسے کانگریس حکومت نے بڑھاکر 30 لاکھ کردیا ہے ۔ ضمیر احمد خاں نے اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کی اسکیمات سے استفادہ کریں۔ وزیر بلدی نظم و نسق رحیم خاں نے کہا کہ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے تعلیمی سرگرمیوں پر توجہ دی جارہی ہے ۔ اس موقع پر حکومت سے قرض حاصل کرنے والے طلبہ نے کہا کہ انہیں حکومت کی امداد سے تعلیم جاری رکھنے میں مدد ملی ہے۔ 5 لاکھ روپئے قرض کی فراہمی سے غریب اور متوسط طبقات کے طلبہ کو فائدہ ہوگا۔