اعلیٰ طبقات کے دباؤ کے تحت معاشی پسماندہ افراد کو تحفظات

   


برہمن سماج نے حکومت کو 30 جنوری تک مہلت دی، ریڈی ، ویلما اور کما طبقات کو بھی فائدہ
حیدرآباد: تلنگانہ میں معاشی طور پر پسماندہ طبقات کو 10 فیصد تحفظات کی فراہمی کا فیصلہ دراصل اعلیٰ طبقات کی جانب سے دی گئی دھمکیوں کا نتیجہ ہے۔ اعلیٰ طبقات نے حکومت کو تحفظات کی فراہمی کیلئے 30 جنوری تک کی مہلت دی ہے ۔ بصورت دیگر ریاست گیر ایجی ٹیشن کا اعلان کیا ہے ۔ مرکزی حکومت نے روزگار کی فراہمی کے سلسلہ میں معاشی طور پر پسماندہ طبقات کو تحفظات کا اعلان کیا جس کے بعد سے تلنگانہ حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ برہمن ، ریڈی ، ویلما ، کما اور دیگر اعلیٰ طبقات کا کہنا ہے کہ ان میں سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی خاصی تعداد ہے اور انہیں اعلیٰ طبقات سے تعلق کے نتیجہ میں تحفظات کے فوائد سے محروم رکھا گیا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اسمبلی انتخابات کے موقع پر اعلیٰ طبقات کو تیقن دیا تھا کہ معاشی طور پر پسماندہ تحفظات فراہم کرتے ہوئے اعلیٰ طبقات سے تعلق رکھنے والے غریبوں کا احاطہ کیا جائے گا ۔ اعلیٰ طبقات نے 30 جنوری تک حکومت کو مہلت دی تھی جس کے نتیجہ میں کے سی آر نے 10 فیصد تحفظات کا اعلان کیا ۔ آئندہ چند دنوں میں اس سلسلہ میں احکامات جاری کئے جائیں گے۔ ریاست میں ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور مسلمانوں کو بی سی زمرہ میں 50 فیصد تحفظات حاصل ہیں۔ مزید 10 فیصد EWS تحفظات سے مجموعی تحفظات بڑھ کر 60 فیصد ہوجائیں گے۔ حکومت نے وضاحت کی ہے کہ موجودہ تحفظات میں کسی کمی کے بغیر یہ اضافی تحفظات رہیں گے۔ مرکز کی آیوشمان بھارت ہیلت اسکیم کو آروگیہ شری سے مربوط کرنے کے فیصلہ کے بعد تلنگانہ حکومت نے معاشی طور پر پسماندہ طبقات کو تحفظات کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ سپریم کورٹ نے اگرچہ تحفظات کی حد 50 فیصد مقرر کی ہے لیکن ٹاملناڈو میں 69 فیصد تحفظات برقرار ہیں۔ حکومت نے ایس ٹی تحفظات کو 6 سے بڑھاکر 10 فیصد کرنے اور مسلم تحفظات کو 4 سے بڑھاکر 12 فیصد کرنے کیلئے اسمبلی میں قرارداد منظور کی تھی لیکن یہ دونوں تجاویز مرکزی حکومت کے پاس زیر التواء ہیں۔ معاشی طور پر پسماندہ تحفظات سے اعلیٰ طبقات کو تعلیمی اداروں میں داخلے اور سرکاری محکمہ جات کے تقررات میں فائدہ ہوگا۔ تلنگانہ برہمن پریشد نے حکومت کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ طبقات بالخصوص برہمن سماج سے تعلق رکھنے والے غریب خاندانوں کو فائدہ ہوگا۔ برہمن پریشد نے حکومت کی جانب سے احکامات کی اجرائی تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔ 31 جنوری کو ورنگل میں بڑے جلسہ عام کا منصوبہ ہے۔