اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کے خلاف مقدمات ہو تو کیا پاکستان ۔ سری لنکا منتقل کیاجائے ؟

   

ووٹ برائے نوٹس کیس کو مدھیہ پردیش منتقل کرنے کی درخواست پر سپریم کورٹ کا سخت ردعمل
حیدرآباد 23 جولائی : ( سیاست نیوز ) : سپریم کورٹ نے ووٹ برائے نوٹ کیس کو دوسری ریاست کو کیوں منتقل کیا جائے درخواست گذاروں سے استفسار کیا ۔ ساتھ میں یہ بھی سوال کیا کہ کیا ملزم چیف منسٹر ہے تو عدالتیں متاثر ہوتی ہیں ؟ اس طرح کے درخواستوں پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ سابق ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سابق وزراء جگدیش ریڈی ، ستیہ وتی راتھوڑ اور رکن اسمبلی کے سنجے نے جاریہ سال 31 جنوری کو سپریم کورٹ میں درخواست داخل کرکے ووٹ برائے نوٹ کیس کو مدھیہ پردیش منتقل کرنے کی اپیل کی ہے ۔ جس پر جسٹس بی آر گاوائی جسٹس کے وی وشواناتھ پر مشتمل دو ججوں کے بنچ نے پیر کو سماعت کی ۔ درخواست گذاروں کے وکیل نے اپنے دلائل پیش کئے انکا کہنا تھا کہ سماعت ( اتوار ) کی رات کو جواب داخل کیا گیا تھا اور انہوں نے دو ہفتوں کی مہلت مانگی تھی اور عدالت کو یہ بات بتائی گئی تھی کہ اس کیس کا ملزم فی الحال چیف منسٹر ہے ۔ شواہد سے چھیڑ چھاڑ ہوسکتی ہے اور گواہوں پر اثر انداز ہونے کے اندیشے ہیں۔ یہ بھی امکان ہے کہ تحقیقاتی ایجنسیاں اپنے دلائل تبدیل کرسکتی ہیں ۔ ان امکانات اور الزامات پر عدالت نے سخت ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ کیا عدالتیں صرف اس لئے متاثر ہوتی ہیں کہ ملزم چیف منسٹر ہے اس لیے اس کیس کو دوسری ریاست کو منتقل کیا جانا چاہئے ۔ اگر ملک میں اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں کے خلاف مقدمات درج ہو تو کیا انہیں پاکستان یا سری لنکا منتقل کردیا جائے ۔ عدالت نے درخواست گذار کو دو ہفتوں میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ۔۔ 2