حاملہ خواتین کے ساتھ بھی بدسلوکی ۔ سڑک پر سر عام ہتک آمیز رویہ
حیدرآباد /25 اپریل ( سیاست نیوز ) شہر میں لاک ڈاؤن پر عمل آوری کے دوران پولیس ملازمین کا رویہ شہریوں میں خوف و ہیبت کا باعث بناہوا ہے ۔ فرینڈلی کمیونٹی پولیسنگ کی عمل آوری میں منفرد شناخت بنانے والی سٹی پولیس اب خود اپنے رویہ سے فرینڈلی پولیسنگ کی دھجیاں اڑارہی ہے ۔ لاک ڈاؤن میں شہریوں سے پولیس کی گفتگو اور طرز عمل اور شمالی ہند کے پولیس اسٹائل کو بھی پیچھے چھوڑ گیا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ سٹی پولیس لاک ڈاؤن پر عمل آوری کے دوران کمشنر پولیس کی ہدایت کی پرواہ نہیں کرتی ۔ اعلی پولیس عہدیداروں کے قول اور ماتحت عہدیداروں کے عمل میں کافی تضاد ہے ۔ سٹی پولیس پر دن بدن جانبداری کے الزامات بھی پائے جاتے ہیں اور گاڑیوں کی ضبطی کے دوران خواتین کے سامنے مردوں کو رسواء کیا جارہا ہے ۔ لاک ڈاؤن میں دواخانوں میں تشخیص اور ضروری ادویات اور اشیاء کیلئے مکانات سے باہر نکلنا مشکل ہوگیا ہے ۔ پرانے شہر کے بی بی بازار چوراہے پر دو حاملہ خواتین جو مرد حضرات کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار تھے ۔ انہیں روک لیا گیا اور بے یار و مددگار پیدل مکانات کو روانہ کیا گیا ۔ دو خواتین کی پرچیاں بتانے اور حقیقی وجوہات کو واضح کرنے کے باوجود انہیں رسواء کرکے پیدل روانہ کردیا گیا ۔ خواتین نے سوال کیا کہ وہ بھلا تنہا کس طرح مکانات سے باہر آسکتی ہیں ۔ انہیں دواخانے سے رجوع ہونا ضروری ہے ۔ اس کے باوجود پولیس ملازمین ایک خاتون کی فریاد سننے بھی تیار نہیں ہیں ۔ بعض مقامات پر چہرے اور حوالے دیکر انہیں کارروائی کے بغیر چھوڑ دینے کے بھی سٹی پولیس پر الزامات پائے جاتے ہیں ۔ اب جبکہ ماہ صیام کا آغاز ہوچکا ہے ایسے میں پولیس ملازمین کا رویہ انتہائی افسوس اور ہراسانی کا سبب بنا ہوا ہے ۔ شہریاں حیدرآباد نے سٹی پولیس کے رویہ میں تبدیلی پر زور دیا ہے ۔