پارلیمنٹ میں اقتصادی سروے 2022-23ء پیش کرتے ہوئے وزیرخزانہ نرملاسیتارامن کا بیان
نئی دہلی: حکومت ایک مشن موڈ میں افرادی قوت کو روزگار کے قابل ہنر اور علم فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے اور قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) پیشہ ورانہ تعلیم اور ہنر کی ترقی پر خصوصی توجہ دیتی ہے ۔پارلیمنٹ میں اقتصادی سروے 2022-23 پیش کرتے ہوئے ، وزیر خزانہ نرملا سیتا رامن نے کہا کہ حکومت وزارت کے قیام کے ساتھ ہی ساتھ نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ مشن اورہنرمندی کی ترقی نیزانٹرپرینیورشپ پر قومی پالیسی کے آغاز کے ذریعہ ملک میں ہنرمندی کے ماحولیاتی نظام کو بہتربنانے اور اسے ہموار بنانے کی کوششوں کو تیز کرنے کیلئے پرعزم ہے ۔ این ای پی 2020 کے تحت بھی پیشہ ورانہ تعلیم اور ہنر کی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔ پیشہ ورانہ تعلیم اور عمومی تعلیم کے انضمام اور پیشہ ورانہ تعلیم کو مرکزی دھارے میں لانے کو ملک کے تعلیمی نظام میں ایک بڑی اصلاحات کے طور پر شناخت کیا گیا ہے ۔جائزہ میں متواتر لیبر فورس سروے (پی ایل ایف ایس) مالی سال 2021 میں دکھایا گیا ہیکہ نوجوانوں (15سے 29سال کی عمر) اور کام کرنے والی آبادی (15-59سال) کے درمیان رسمی پیشہ ورانہ؍تکنیکی تربیت مالی سال 2019اور مالی سال 2020کے مقابلے میں مالی سال 2021 میں بہتری آئی ہے ۔ دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں خواتین اور مردوں کی مہارتوں میں بہتری آئی ہے ۔ نو اہم شعبوں میں کارکنوں کو ملازمت دینے والے اداروں پر سہ ماہی روزگار سروے (کیوای ایس) کے چوتھے مرحلے (مالی سال 2022 کی چوتھی سہ ماہی) کی رپورٹ کے مطابق، تخمینہ شدہ اداروں میں سے 15.6 فیصد نے رسمی مہارتیں فراہم کیں اور 20.5 فیصد نے ملازمت کی تربیت فراہم کی۔ صحت کے شعبے میں باضابطہ مہارت کی تربیت (24.7فیصد) اور آن دی جاب ٹریننگ (31.6 فیصد) فراہم کرنے والے تخمینہ شدہ اداروں کارہا۔ مالیاتی خدمات کے ادارہ (20.4فیصد) نے فارمل اور 26.4 فیصد نے آن دی جاب ٹریننگ فراہم کی۔اس میں، اسکل انڈیا مشن قلیل مدتی اور طویل مدتی تربیتی پروگراموں کے ذریعہ اسکلنگ، ری اسکلنگ اور اپ اسکلنگ پرتوجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس مشن کے تحت، حکومت 20سے زیادہ مرکزی وزارتوں؍ محکموں کے ذریعہ ملک بھر میں مہارت کی ترقی کی مختلف اسکیمیں نافذ کر رہی ہے۔ ان پروگراموں کی تشہیر پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور ریاستی حکومتوں کی مہمات کے ذریعہ کی جا رہی ہے ۔ زیادہ سے زیادہ شعبوں کو مہارتوں سے متعلق ایکوسسٹم میں پھیلے کامن فریم ورک کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے ، تاکہ اسکل ایکوسسٹم میں حکومتی ہنر مندی کے پروگراموں کے نتائج میں یکسانیت ہو۔
عالمی چیلنجوں کے باوجود برآمدات میں اضافہ
وزیر فینانس نرملا سیتا رمن نے اقتصادی جائزہ پیش کیا
نئی دہلی: وزیرفینانس نرملا سیتا رمن نے منگل کو پارلیمنٹ میں اقتصادی جائزہ 2022-23 پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اپنے بیرونی شعبے میں مضبوط میکرو بنیادی اصولوں اور بفر اسٹاک کی وجہ سے ان منفی حالات کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہا ہے ۔سیتا رمن نے کہا کہ ہندوستان کا خارجہ شعبہ بار بار مشکلات اور غیر یقینی صورتحال سے متاثر ہوا ہے۔ ان کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا جو اب کم ہو رہا ہے ۔ بین الاقوامی مالیاتی منڈی کی حساسیت میں اضافہ اب سرمائے کے بہاؤ، سرمائے کی قدر میں کمی، عالمی ترقی اور تجارتی سست روی میں تبدیلیوں کی وجہ سے کم ہو رہا ہے ۔سروے میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2023 کے دوران (دسمبر 2022 تک)، ہندوستان نے مالی سال 2022 میں برآمدات کی ریکارڈ سطح کے بعد لچک کا مظاہرہ کیا ہے ۔ پیٹرولیم مصنوعات، جواہرات اور زیورات، نامیاتی اورغیر نامیاتی ، کیمیکل، ادویات اور دواسازی اس کی اہم برآمدی اشیاء رہیں۔ تاہم، عالمی منڈیوں میں سست روی کی وجہ سے ایک سست عالمی معیشت میں ہندوستانی برآمدات میں سست روی ناگزیر تھی۔ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ بیرونی شعبے کی لچک کو بہتر بنانے کے لیے برآمدات کے کلیدی کردار کو تسلیم کرنا درمیانی سے طویل مدتی آؤٹ لک میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور برآمدات کو فروغ دینے کے مختلف اقدامات پر غور اور عملدرآمد کیا جا رہا ہے ۔