چنئی۔ شکستوں کی ہیٹ ٹرک کے بعد کپتانی پر خطرے کے بادل ، بابر اعظم کچھ حوصلہ افزائی اور پاکستانی جادوکا وہ خصوصی ٹکڑا تلاش کرنے کے خواہاں ہوں گے جب ان کی ٹیم ٹورنمنٹ میں خطرناک نظر آرہی جنوبی افریقہ کے خلاف جمعہ کو یہاں ورلڈ کپ کے کرو یا مرو صورت حال کے میچ میں میدان میں اترے گی۔ پاکستان پر ایک اور شکست سے سیمی فائنلز کے دروازے بند ہو جائیں گے اور بابر جو پہلے ہی تنقید کا سامنا کر رہے ہیں، شاید کپتانی سے ہاتھ دھو بیٹھیں کیونکہ ان کی ٹیم کے لیے بقیہ تین میچوں میں مہم کو بچانا عملی طور پر ناممکن ہو جائے گا، چاہے وہ ان میچوں میں جیت جائے۔ اس کے بعد سے پاکستان کو اپنے تمام میچ جیتنے ہوں گے اور توقع رہے گی کہ آسٹریلیا اپنے بقیہ چار میچوں میں سے کم ازکم دو میں شکست کھائے۔ عالمی کرکٹ میں ایک کہاوت ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ پاکستان کی ٹیم کسی خاص دن کون سا کارنامہ انجام دے۔ دھرم شالہ میں ہالینڈ کے خلاف افریقہ کی حیران کن شکست کے باوجود دونوں ٹیموں کے درمیان کارکردگی میں خلیج بہت بڑی ہے۔ کوئنٹن ڈی کاک اور ہینرک کلاسن نے ایڈن مارکرم جیسے دوسروں کی بروقت شراکت کے ساتھ بیٹنگ شعبہ میں ایک نئی آگ لگادی ہے جبکہ پاکستان کے قدیم بیٹنگ کے انداز نے انہیں لیگ مرحلے کے آدھے راستے میں سخت مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ نقطہ نظر میں فرق اس وقت واضح ہوتا ہے جب کوئی دونوں اطراف کی باؤنڈری گنتی کو دیکھتا ہے۔ جنوبی افریقہ کے بیٹروں نے 155 چوکے اور59 چھکے لگائے جبکہ پاکستان نے پانچ میچوں میں صرف 24 چھکے اور 136 چوکے لگائے۔ شرمناک اعدادوشمار یہ ہے کہ پاکستان کے بیٹرس پاور پلے میں پہلے چھ اوورز میں 1200 گیندوں کے بعد چھکا لگا رہے ہیں۔ جبکہ ڈی کاک، کلاسن، مارکرم، ڈیوڈ ملر، آل راؤنڈر مارکو جانسن سبھی کا اسٹرائیک ریٹ 100 سے زیادہ ہے، صرف سعود شکیل اور افتخار احمد، دو مڈل آرڈر بیٹرس نے بمشکل 100 کا اسٹرائیک ریٹ کو عبو کیا ہے۔ بولنگ میں، شاہین شاہ آفریدی ابتدائی اسپیل میں اپنے روایتی وکٹیں لینے کے انداز میں کامیاب نہیں ہو سکے اور 50 اوور کی کرکٹ میں حارث رؤف کی طاقت زیربحث آ گئی۔ رؤف کی ناقص بولنگ نے پاکستان کو اتنا ہی نقصان پہنچایا جتنا نسیم شاہ کی عدم موجودگی نے۔ حسن علی ونڈے میچز کے لیے کافی اچھے نہیں ہیں جس میں معیار کی واضح کمی ہے اور زمان خان یا محمد وسیم جونیئرکو کچھ ورائٹی لانے کے لیے آزمانا برا نہیں ہوگا۔ تاہم چیپاک میں پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری معیاری اسپنرز کی کمی ہوگی۔ یہ بات قابل فہم ہے کہ لیگ اسپنر اسامہ میرکو دونوں مقابلوں میں کھیلانا نقصان دہ ثابت ہوا ہے اور 8 سے زیادہ کی اکانومی ریٹ کے ساتھ ہو سکتا ہے کہ وہ دوسرا مقابلہ نہ کھیل سکیں۔ شاداب خان اتنا ہی عام رہا ہے اور اگرکوئی ایماندار ہے تو پاکستانی نائب کپتان کسی بھی ہندوستانی فرسٹ کلاس ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے جدوجہد کرے گا۔ وہ میانک مارکنڈے، راہول چاہر اور سویش شرما کی لیگ میں بھی نہیں ہیں، جو آئی پی ایل کے تین مستقل بولر ہیں۔