افغانستان اقتصادی تباہی کے دہانے پر: پاکستان

,

   

Ferty9 Clinic

ٹرائیکا پلس اجلاس میں بشمول افغان، امریکہ روس اورچینی مندوبین کی شرکت، افغانستان انسانی المیے کی جانب بڑھ رہا ہے: مائیکل کوگل

اسلام آباد : پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے متنبہ کیا ہے کہ افغانستان تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، لہذٰا عالمی برادری اس کی انسانی بنیادوں پر فوری مدد کرے۔ان خیالات کا اظہار شاہ محمود قریشی نے جمعرات کو افغانستان سے متعلق ٹرائیکا پلس ممالک کے اجلاس کے افتتاحی سیشن کے دوران کہی جس میں امریکہ، چین اور روس کے مندوبین نے بھی شرکت کی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان کو فوری امداد فراہم نہ کی گئی تو طالبان کی نئی حکومت کی ملک چلانے کی استعداد کار نہایت محدود ہو جائے گی جب کہ ملک میں قحط کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔ٹرائیکا پلس اجلاس میں امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان تھامس ویسٹ بھی شریک ہوئے۔وزیرِ خارجہ قریشی نے افغانستان کے منجمد اثاثوں تک افغانستان کو رسائی دینے پر بھی زور دیا تاکہ افغانستان میں معاشی اور اقتصادی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔بعدازاں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے وزیرِ خارجہ قریشی نے کہا کہ افغانستان کو اقتصادی تباہی سے بچانا اور مہاجرین کے بحران اور دہشت گردی کے عفریت کا خاتمہ ایک متفقہ اور مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ بصورت دیگر ان کے بقول اگر افغانستان میں کوئی بگاڑ پیدا ہو گا تو پاکستان کے ساتھ ساتھ مغربی دنیا بھی اس سے متاثر ہو گی۔وزیرِ خارجہ نے باور کرایا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یورپ اس خطے سے دور ہے اور یہاں آنے والی تباہی کے اثرات سے محفوظ رہے گا تو یہ غلط فہمی ہو گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک تاریخ سے سبق سیکھیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ طالبان حکومت کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی بھی 20 رکنی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اسلام آباد میں ہیں اور وہ ٹرائیکا پلس اجلاس کی پیش رفت سے اُنہیں آگاہ کریں گے۔۔خیال رہے کہ پاکستان نے طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ لیکن پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے ایک بار پھر عالمی برادری کو باور کرایا کہ وہ افغان عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے فوری طور پر انسانی امداد اور معاشی مدد فراہم کریں۔دوسری جانب افغانستان کی طالبان حکومت اس بات کی خواہاں ہے کہ عالمی برادری ان کی حکومت کو تسلیم کرے اور افغانستان کو درپیش اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے افغانستان کے منجمد اثاثوں کو بحال کیا جائے۔تاہم بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار زاہد حسین کا کہنا ہے کہ جمعرات کو اسلام آباد میں ہونے والے ٹرائیکا پلس اجلاس میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے شاید کوئی پیش رفت نہ ہو سکے۔ لیکن افغانستان کے عوام کے درپیش معاشی مشکلات کے ازلے لیے امداد فراہم کرنے کے طریقہ? کار کے معاملے پر شاید کوئی مفاہمت طے پاجائے۔ زاہد حسین کے بقول پاکستان طالبان حکومت کو تسلیم کیے بغیر ان سے رابطے رکھے ہوئے ہے اور بین الاقوامی برادری پر بھی زور دے رہا ہے کہ طالبان سے انسانی بنیادوں پر روابط رکھے جائیں تاکہ ملک کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔دوسری طرف جنوبی ایشیائی اُمور کے ماہر تجزیہ کار مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے افغانستان آہستہ آہستہ انسانی المیے کی جانب بڑھ رہا ہے، لیکن اب بھی امریکہ کی اس حوالے سے کوئی حکمتِ عملی سامنے نہیں آئی۔اپنی ٹوئٹ میں کوگل مین کا کہنا تھا کہ امریکی نمائندہ خصوصی کے دورہ یورپ اور ایشیا سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ امریکہ اب بھی مشاورت کے مراحل میں ہے جب کہ وقت تیزی سے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔