افغانستان امن کارروائی سے ہندوستان کو دور رکھنے کی چینی تردید

   

Ferty9 Clinic

بیجنگ ۔ 15جولائی ۔(سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کو افغانستان میں سرحدی امن کی کوششوں سے دور نہیں کیا جارہاہے ، چین نے پیر کے دن کہا کہ اُس نے امریکہ ، روس اور پاکستان کے ساتھ ایک اہم اجلاس کی میزبانی کی ہے تاکہ جنگ زدہ افغانستان میں امن کی کارروائی میں سہولت حاصل ہوسکے ۔ چین اور روس کے نمائندوں اور امریکہ کے نمائندوں کے درمیان تیسری بار افغانستان امن کارروائی کے سلسلے میں 10 تا 11 جولائی بیجنگ میں تبادلۂ خیال ہوا اور اس کے بعد اُنھوں نے پاکستان سے درخواست کی کہ اس میں شامل ہوجائے تاکہ تبادلۂ خیال چار رکنی ہوسکے اور افغانستان میں امن کے قیام کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرسکے ۔ اجلاس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں امریکہ کے خصوصی سفیر برائے افغانستان مفاہمت زلمے خلیل زاد جنھوں نے طالبان کے ساتھ بات چیت میں بھی شرکت کی ہے کہا کہ امریکی فوج کے افغانستان سے تخلیے کے ایک معاہدہ کے مسودہ کو قطعیت دی جائے ، کہا کہ وہ بھی اجلاس میں شریک تھے ۔ اخباری نمائندوں کو اجلاس کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے وزارت خارجہ چین کے ترجمان گینگ چوانگ نے کہا کہ ہم اتفاق رائے پر پہونچ چکے ہیں ، ہم نے اپنے نظریات کا جو افغانستان کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں تھے باہم تبادلہ کیا اور ہماری کوشش تھی کہ امن اور صیانت کا ماحول بحال کیا جائے ۔ انھوں نے کہاکہ تمام چاروں ممالک نے اتفاق رائے کیا کہ باہمی تعاون میں اضافہ کیا جائے اور مواصلات مشترکہ ہوں تاکہ افغانستان میں امن بحال کرنے کی کوششوں میں اشترک کیا جاسکے ۔ انھوں نے کہاکہ چار فریقی اجلاس مستقبل میں محکمہ جاتی بھی ہوسکتا ہے۔ گینگ نے کہا کہ چاروں ممالک کا آئندہ اجلاس باہمی مشاورت کے ذریعہ شروع ہوگا ۔ اس سوال پر کہ ہندوستان کو کیوں اجلاس میں شرکت کیلئے مدعو نہیں کیا گیا ؟ انھوں نے کہاکہ چین تمام فریقین بشمول ہندوستان سے افغانستان مسئلہ کے سلسلے میں قریبی مراسلت جاری رکھے ہوئے ہے ۔