افغانستان سے امریکی انخلا نے داعش کو مضبوط کیا:فرینک میکنزی

   

واشنگٹن : امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ جنرل کینتھ فرینک میکنزی نے گزشتہ ہفتے ٹیلی ویڑن انٹرویوز کے دوران کہا کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد کالعدم عسکریت پسند تنظیم داعش، القاعدہ سے زیادہ بڑا خطرہ بن گئی ہے۔اخبار کی رپورٹ کے مطابق سینٹرل کمانڈ کے موجودہ سربراہ جنرل ایرک کریلا نے بھی ایک حالیہ انٹرویو میں ایسے ہی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ داعش 6 ماہ کیا ندر امریکا کے خلاف ’بیرونی آپریشن‘ کر سکتی ہے۔گزشتہ برس اپریل میں ریٹائر ہونے والے کینتھ فرینک میکنزی افغانستان سے انخلا کے دوران سینٹرل کمانڈ کے سربراہ رہے، جو مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے کچھ حصوں میں آپریشنز کے لیے ذمہ دار ہے، ان کی کمان میں افغانستان اور پاکستان دونوں شامل تھے۔جنرل ایرک کریلا کے انتباہ سے متعلق سوال کے جواب میں کینتھ فرینک میکنزی نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ کالعدم تنظیم داعش ہمیشہ سے امریکیوں پر ان کی سرزمین پر حملہ کرنے کی خواہاں ہے، یہ ان کا ایک بنیادی اصول اور بنیادی عقیدہ ہے، افغانستان سے ہمارے انخلا کے بعد اب ہمارے لیے دہشت گردوں سے لڑنا کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔