افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی پرتنقید کا کوئی جواز نہیں : بلنکن

,

   

Ferty9 Clinic

l میں امریکہ کے ریٹائرڈ جنرلس کا احترام کرتا ہوں l ہم 11 ستمبر کے حملہ آوروں سے لڑنے افغانستان گئے تھے
l اے بی سی کے پروگرام ’’اس ہفتے‘‘ سے انٹونی بلنکن کی بات چیت

واشنگٹن : اتوار کے روز ایک انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اتوار کے روز ایک انٹرویو میں صدر جوبائیڈن کے افغانستان سے امریکی جنگی افواج کے انخلا کے منصوبے پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے القاعدہ کے امریکہ پر حملہ کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنے کے اپنے مشن کو پورا کیا ہے۔ اس کے بعد امریکی فوج کی افغانستان میں مزید تعیناتی کا کوئی جواز نہیں۔بلنکن نے اے بی سی کے پروگرام ’’اس ہفتے‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈیوڈ پیٹریاس اور جوزف ڈنفورڈ سمیت ریٹائرڈ جنرلس کا احترام کرتے ہیں جنہوں نے افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے فیصلے پر جوبائیڈن انتظامیہ پر تنقید کی ہے۔ بلنکن نے کہا کہ میں جنرل پیٹریاس ، جنرل ڈنفورڈ اور دیگر کا بہت احترام کرتا ہوں لیکن ہم نے افغانستان سے انخلا کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم 20 سال پہلے افغانستان گئے تھے۔ ہم اس لیے گئے تھے کہ ہم پر گیارہ ستمبر کو حملہ ہوا تھا۔ ہم وہاں 11 ستمبر کے حملہ آوروں سے لڑنے کے لیے گئے تھے۔ اب ہم نے اس بات کو یقینی بنا لیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو کبھی بھی دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔ اس جنگ سے ہم نے جو حاصل کرنا تھا کرلیا ہے۔ القاعدہ کے امریکہ پر حملے کی صلاحیت کو ختم کردیا گیا ہے۔خیال رہے کہ افغانستان سے فوج کے انخلا کے اعلان پر امریکی محکمہ دفاع کے بعض جنرلس نے اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے بیشتر علاقوں پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ موجودہ حالات میں امریکی فوج کا انخلا طالبان کے مقابلے میں شکست کھانے کے مترادف ہے۔