افغانستان سے فوج کے انخلا پر عدم استحکام کشمیر تک پھیل سکتا ہے

   

Ferty9 Clinic

ہندوستان کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف بپن راوت کا اظہار تشویش

نئی دہلی : ہندوستان کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف بپن راوت نے امریکہ اور نیٹو افواج کے افغانستان سے مجوزہ انخلا کے بعد پیدا ہونے والے خلا کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔میڈیا کے مطابق جنرل بپن راوت نے ایک سیکیورٹی کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پریشان کن بات یہ ہے کہ افغانستان سے امریکہ اور غیر ملکی افواج کے بعد پیدا ہونے والے خلا کی جگہ شرپسند عناصر لے سکتے ہیں البتہ انہوں نے ایسے کسی ملک کا نام لینے سے گریز کیا جو ان کے خیال میں صورتحال کا فائدہ اٹھا کر ماحول کو بگاڑ سکتے ہیں۔امریکی صدر جو بائیڈن نے طویل ترین امریکی جنگ کے خاتمہ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یکم مئی سے امریکی فوجیوں کے افغانستان سے انخلا کا عمل شروع ہو جائے گا۔امریکی صدر نے امریکی فوج کی مزید موجودگی کے مطالبے کو مسترد کیا، جہاں مقامی افغان حکومت سمیت چند ماہرین کا ماننا ہے کہ غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں امن و امان کی صورتحال پر سوالیہ نشان لگ جائے گا اور قیام امن کے لیے غیرملکی افواج کی موجودگی ضروری ہے۔بپن راوت نے کہا کہ ہمیں خدشہ یہ ہے کہ امریکہ اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں جو خلا پیدا ہو گا تو شرپسند عناصر اس کا فائدہ نہ اٹھائیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کو سب سے بڑا خدشہ غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں عدم استحکام کا ہے جو مقبوضہ کشمیر تک پھیل سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ پاکستان، طالبان کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کی بدولت افغانستان میں اس صورتحال سے بڑا فائدہ حاصل کر سکتا ہے اور توقع ہے کہ امریکی انخلا کے بعد وہ اہم کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ بہت سارے لوگ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لیے کوشاں ہیں۔2001 میں طالبان کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد ہندوستان نے افغانستان میں ترقیاتی کاموں کے علاوہ پارلیمنٹ پر 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔