داعش کی جانب سے بڑھتے خطرات اور امتیازی سلوک کی شکایت کے بعد فیصلہ
کابل : افغانستان میں مقیم سکھوں اور ہندوؤں کی اقلیتی آبادی دن بہ دن گھٹ رہی ہے۔ داعش کے خطرات میں اضافہ کے بعد افغانستان میں مقیم ہندوؤں اور سکھ افراد ملک چھوڑ رہے ہیں۔ اپنی جائے پیدائش کے مقام پر عدم سلامتی کا احساس پیدا ہورہا ہے۔ ماضی میں ان افراد کی تعداد 2 لاکھ 50 ہزار تھی جو گھٹ کر 700 ہوگئی ہے۔ مسلم غلبہ والے ملک افغانستان میں اُن کے ساتھ امتیازی سلوک بڑھتے جانے کی شکایت کرتے ہوئے ہندوؤں اور سکھوؤں کی ایک بڑی تعداد واپس ہورہی ہے۔ ان کی شکایت ہے کہ افغان حکومت نے ان کے تحفظ کیلئے مناسب اقدامات نہیں کئے۔ داعش گروپ کے ان پر حملے بڑھتے جارہے ہیں۔ واپس ہونے والے ایک شخص نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صرف اپنی عرفیت ہمدرد بتاتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں ہندوؤں اور سکھوؤں کی تعداد گھٹ گئی ہے، اس لئے ہم بھی خوف کے سبب ملک چھوڑ رہے ہیں۔ ہمدرد کے سات ارکان خاندان میں سے جن میں اُن کی بہن، بھتیجے، بھانجیاں اور داماد شامل ہیں، قتل کردیا گیا تھا۔
