دوحہ ۔24 اپریل ۔( سیاست ڈاٹ کام ) افغان طالبان کے دوحہ آفس کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ امریکہ سے طے پانے والے معاہدے میں قیامِ امن کے لیے ایک فریم ورک طے کیا گیا ہے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل و بین الاقوامی برداری بھی اس کی تائید کرچکی ہے۔سہیل شاہین کا ایک ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ اگر معاہدے پر پوری طرح عمل ہو تو یہ ہمیں ایک پائیدار امن اور جنگ بندی کی طرف لے جائے گا۔طالبان نے افغانستان حکومت کی طرف سے ماہِ رمضان کے دوران جنگ بندی کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ حکومت نے حال ہی میں یہ مطالبہ کیا تھا۔یاد رہے کہ رواں برس 29 فروری کو امریکہ اور طالبان کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا۔اس معاہدے کی رو سے 10 مارچ کو بین الافغان مذاکرات سے قبل حکومت کو طالبان کے پانچ ہزار قیدیوں کو رہا کرنا تھا جواب میں طالبان کی جانب سے بھی ایک ہزار افغان قیدیوں کو رہا کیا جانا تھا۔تاہم قیدیوں کے تبادلے کا عمل ست روی کا شکار ہے جس کی وجہ سے بین الافغان مذاکرات بھی تاخیر کا شکار ہیں۔ طالبان کا مسلسل یہ اصرار ہے کہ وہ تمام قیدیوں کی رہائی سے پہلے ان مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے۔افغانستان کے مذہبی امور کے وزیر عبدالحیم منیب نے منگل کو ایک نیوز کانفرنس کے دوران جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس اقدام سے حکومت کورونا وائرس کے مشترکہ خطرے سے بہتر طور پر نمٹ سکے گی۔طالبان ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب کورونا وائرس کی وجہ سے ہزاروں قیدیوں کی جانوں کو خطرہ ہے، جنگ بندی کا مطالبہ کرنا نا تو معقول ہے اور ناہی اس کی کوئی منطق ہے۔
