افغانستان میں ایرانی طرز کی حکمرانی ممکن ، عنقریب اعلان

   

حیدرآباد۔یکم۔ ستمبر (سیاست نیوز) افغانستان میں تشکیل حکومت کا عمل شروع کیا جاچکا ہے اور اندرون ایک ہفتہ افغانستان میں تشکیل حکومت کا عمل اور طرز حکمرانی کو واضح کردیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق افغانستان میں ایران طرز کی حکومت قائم کی جائے گی اور سیاسی حکمرانی پر اسلامی سپریم لیڈر شپ یا کونسل ہوگی اور صدر مملکت اور سیاسی حکومت و کابینہ سپریم کونسل کے تحت ہوگی۔ طالبان نے افغانستان میں قیام حکومت کے سلسلہ میں متعدد امور کا جائزہ لینے کے بعد افغانستان کو اسلامی امارت افغانستان کے طور پر حکومت سازی کا ذہن بنا لیا ہے لیکن اس اسلامی امارت کا طرز حکمرانی ایران کے طرز حکومت سے مماثلت والا ہوگا جس میں ملک کا مقتدر اعلیٰ طبقہ اسلامی سپریم کونسل ہوگا اور اس سپریم کونسل کی نگرانی ملا ہیبت اللہ اخون زادہ کریںگے ۔ افغانستان میں تشکیل دی جانے والی سپریم کونسل کو 11تا72 ارکان پر مشتمل رکھنے پر غور کیا جا رہاہے لیکن یہ واضح ہے کہ سپریم کونسل میں ارکان کی تعداد طاق ہوگی۔ طالبان حکومت سازی کے دوران صدر مملکت ‘ وزیر اعظم کے علاوہ وزارت خارجہ اور داخلہ کے ساتھ چیف جسٹس اور دیگر ججس کی تعیناتی عمل میں لائے گی۔ حکومت افغانستان کی ایران کے طرز پر تشکیل کے سلسلہ میں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کہا جا رہاہے کہ امارت اسلامیہ افغانستان میں سپریم کونسل کی قیادت ملا ہیبت اللہ اخون زادہ کے حوالہ کرنے کے علاوہ ملا محمد عمر کے فرزندملا یعقوب کو کابینہ میں شامل کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ ملا عبدالغنی برادر کو بھی افغانستان کی کابینہ میں اہم عہدہ حاصل ہوگا۔ علاوہ ازیں حقانی نیٹ ورک کے بانی جلال الدین حقانی کے فرزند سراج الدین حقانی بھی کابینہ میں شامل کئے جائیں گے۔ طالبان کے ذرائع کے مطابق سپریم کونسل کی تشکیل کے بعد سیاسی حکمرانی کی ترکیب کے اقدامات کئے جائیں گے اور سپریم لیڈر امارت اسلامیہ افغانستان کے عہدہ کیلئے ملا ہیبت اللہ اخون زادہ کے علاوہ کوئی موزوں شخصیت نہیں ہے ۔ ملاہیبت اللہ اخون زادہ کے قریبی بااعتماد رفقاء کو سیاسی حکمرانی میں اہم عہدوں پر فائز کیا جائے گا۔ طالبان کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہاہے کہ ایران اسلامی جمہوریہ ہے اور طالبان نے امارت اسلامیہ کا اعلان کیا ہے ۔
اور اسی رو سے حکومت سازی کے اقدامات کئے جائیں گے اور1964-65 کے دستور میں معمولی ترامیم کے ساتھ نئے دستور کو نافذ کیا جائے گا۔ بتایاجاتا ہے کہ طالبان کی مذہبی حکمرانی یعنی سپریم لیڈر شپ کو دستوری ترامیم کا اختیار حاصل رہے گا جبکہ سیاسی مقتدر طبقہ کو دستور میں ترامیم کے لئے سفارش کا حق حاصل رہے گا۔