افغانستان میں بینکنگ نظام بحران میں، 60 فیصد اکاؤنٹس صفر ہوگئے

   

بیروزگاری اور غربت اہم مسائل، بہتری کا انحصار بیرونی امداد پر
اسلامک بینک آف افغانستان کے صدر سید موسیٰ کلیم فلاحی کے تاثرات
حیدرآباد۔ 25 جنوری (سیاست نیوز) افغانستان میں بینکنگ شعبہ بحران کے دور سے گذر رہا ہے۔ سرکاری اور خانگی بینکس اپنی بقاء کے لئے مختلف چیلنجس کا سامنا کررہے ہیں۔ ملک سے امریکی انخلاء اور طالبان کی حکومت کی تشکیل کے بعد بیرونی امداد مسدود ہوگئی جس کے نتیجہ میں غربت اور بیروزگاری جیسے سنگین مسائل کا عوام کو سامنا ہے۔ افغانستان میں معمول کے حالات کی بحالی کا انحصار بیرونی امداد پر ہے چاہے وہ مختلف ممالک سے ہو یا پھر بین الاقوامی اداروں سے۔ افغانستان کی حکومت حالات کو معمول پر لانے کے لئے امریکہ اور دیگر ممالک سے مذاکرات میں مصروف ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ جلد ہی کوئی مثبت نتیجہ برآمد ہوگا اور افغانستان کے عوام کے مسائل میں کمی واقع ہوگی۔ اسلامک بینک آف افغانستان کے صدر اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر جناب سید موسیٰ کلیم فلاحی نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ سید موسیٰ کلیم فلاحی جن کا تعلق حیدرآباد سے ہے وہ مختصر قیام کے لئے حیدرآباد میں تھے۔ انہوں نے افغانستان کی صورتحال اور بینکنگ سسٹم کے چیلنجس سے واقف کرایا۔ اپریل 2018 میں اسلامک بینک آف افغانستان کا قیام عمل میں آیا جو ملک کا واحد اسلامی بینک ہے۔ 2019 سے موسیٰ کلیم فلاحی صدر اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ دوبئی میں مقیم افغانستان کے بزنس مین میر ویس عزیزی نے مختلف شعبہ جات میں اداروں کا قیام عمل میں لایا۔ 2006 میں عزیزی بینک قائم کیا گیا جو افغانستان کا سب سے بڑا کمرشیل بینک ہے۔ اسلامک بینکنگ کو فروغ دینے کے لئے اسلامی بینک آف افغانستان کا قیام عمل میں آیا جس کی 62 برانچس ہیں۔ سید موسیٰ کلیم نے بتایا کہ سرکاری اور خانگی دونوں بینکس میں کسٹمرس کی جانب سے رقومات نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ بینکوں نے وتھڈرال کے لئے رقم کی حد مقرر کردی ہے لیکن معاشی بحران کے نتیجہ میں کسٹمرس کی ساری توجہ رقم نکالنے پر مرکوز ہے تاکہ روز مرہ کی ضروریات کی تکمیل ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں میں تقریباً 60 فیصد اکاؤنٹس صفر ہوچکے ہیں اور کسٹمرس نے ساری رقم نکال لی ہے۔ ملک کو بیرونی امداد کی بحالی کی صورت میں بینکوں کی حالت بھی مستحکم ہوگی۔ طالبان حکومت کے سرکاری کام کاج بھی متاثر ہوئے ہیں۔ سرکاری اور خانگی شعبہ جات کے ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کردی گئی تاہم صورتحال کے معمول پر آنے کے بعد ادائیگی کا تیقن دیا گیا۔ عالمی برادری سے افغانستان کے عوام کو امید ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کو بحال کیا جائے گا۔ سید موسیٰ کلیم نے بتایا کہ افغانستان کے عوام دیگر ممالک کے مقابلہ ہندوستان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ سابق حکومت کے دور میں ہندوستان نے کئی پراجکٹس تعمیر کئے اور پارلیمنٹ کی انتہائی خوبصورت عمارت ہندوستان کی جانب سے بطور تحفہ پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامک بینک آف افغانستان اور عزیزی بینک کی جانب سے مستقبل کے ایکشن پلان کو عنقریب قطعیت دی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بینکوں کو خسارہ کا سامنا ہے اور صورتحال کے معمول پر آنے کے لئے وقت لگ سکتا ہے۔ ر