لندن : برطانوی اخبار دی گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان میں خواتین کی خودکشیوں اور خودکشی کی کوششوں کی تعداد میں ‘پریشان کن اضافہ’ ہوا ہے۔اخبار نے کہا ہیکہ طالبان کی حکومت نے اس رجحان کے بارے میں کوئی اعداد و شمار شائع نہیں کیے ہیں اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کو بھی یہ تعداد کو شئیر کرنے سے منع کیا ہے۔تاہم، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں نے نجی طور پر اگست 2021 سے اگست 2022 تک معلومات شئیر کرنے پر رضامندی ظاہر کی تاکہ ‘صحت عامہ کیاس ہنگامی بحران کو اجاگر کیا جا سکے’ جس نے افغانستان کو دنیا کے ان چند مقامات میں سے ایک بنا دیا ہے جہاں مردوں سے کہیں زیادہ بڑی تعداد میں خواتین خود کشی کرتی ہیں۔افغان خواتین کے لیے اقوامِ متحدہ کی ڈپٹی نمائندہ ایلیسن ڈویڈیان نے اخبار کی رپورٹ کو شئیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ”افغانستان میں ذہنی صحت کاایک بحران ابھر رہا ہے جس کی وجہ عورتوں کے حقوق کا بحران ہے۔”اخباردی گارڈین نے رپورٹ کیا ہے کہ ایک سال کے دوران، ” خودکشی کی ریکارڈ شدہ اموات اور کوشش سے زندہ بچ جانے والوں میں 75 فی صد سے زیادہ خواتین تھیں۔”اخبار کے مطابق،”افغانستان میں خواتین کے لیے زندگی انتہائی محدود ہو چکی ہے اور صحت خدمات فراہم کرنے والوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے افغان خواتین کی خودکشی کے واقعات میں حیران کن اضافہ کے بارے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔