واشنگٹن۔ 9 فروری (سیاست ڈاٹ کام) ٹرمپ انتظامیہ نے آج ایک اور رنگ بدلتے ہوئے کہا کہ امریکہ، افغانستان میں قیام امن کے معاہدہ میں دلچسپی رکھتا ہے ناکہ افغانستان سے امریکی فوج کے تخلیہ میں۔ یاد رہے کہ صرف کچھ ہفتوں قبل ہی امریکہ نے طالبان کے ساتھ راست مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا تھا جس پر عمل آوری بھی ہوئی تھی۔ فریقین نے قیام امن کے معاہدہ کو قطعیت دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی تھی لیکن افغانستان میں امن مذاکرات کے امریکی قاصد زلمے خلیل زاد نے واشنگٹن میں اپنے ایک خطاب کے دوران یہ کہہ دیا کہ ہم افغانستان میں ایک پرامن قرارداد کو قطعیت دینے کی جانب صرف چند قدم ہی آگے بڑھے ہیں اور اب بھی ہمیں ایک طویل سفر طئے کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مکمل قیام امن کیلئے علاقائی ممالک جیسے پاکستان کا تعاون بھی بے حد ضروری ہے۔ زلمے خلیل زاد کو افغانستان میں مکمل قیام امن کی ذمہ داری امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے 6 ماہ قبل دی تھی۔ خلیل زاد نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مجموعی طور پر جو مقصد ہے وہ افغانستان سے امریکی فوج کے تخلیہ کا نہیں ہے بلکہ قیام امن کا ہے۔ اگر ملک میں امن کا بول بالا ہوگا تو پھر فوج کی ضرورت ہی کیا ہوگی اور اس صورتحال میں امریکی فوج کے تخلیہ کی راہ خودبخود پیدا ہوجائے گی۔ یو ایس انسٹیٹیوٹ آف پیس (USIP) میں اپنے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ معاہدہ امن کے حصول کیلئے ہمیں کچھ دیگر ضمنی معاملات سے بھی نمٹنا ہوگا۔