افغانستان میں گزشتہ سال 10 ہزار افراد ہلاک ہوئے :اقوام متحدہ

   

اقوام متحدہ 23 فروری (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ افغانستان میں تشدد کے دوران گزشتہ سال 10،000 سے زائد شہری یا تو مارے گئے یا زخمی ہوئے تھے ۔افغانستان کے لئے اقوام متحدہ کے نمائندے اور افغانستان کے لئے اقوام متحدہ میں ا مدادی مشن کے سربراہ تدمچي یاماموتو نے رپورٹ کا حوالہ دے کر کہا‘‘افغانستان میں جاری تشدد سے کوئی شخص بچا نہیں ہے ’’۔‘افغانستان اینوول رپورٹ آن پروٹیکشن آف سویلین آرمڈ کنفلکٹ ’ نام سے شائع اقوام متحدہ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ افغانستان میں گزشتہ سال 3،403 شہری مارے گئے اور 6،989 زخمی ہوئے تھے ۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ حکومت مخالف عناصر کے ہاتھوں ہلاک ہوئے تھے ۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق یہ چھٹا سال تھا، جب فغانستان میں ایک سال کے دوران 10,000سے زائد شہری ہلاک ہوئے تھے ۔اقوام متحدہ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ سال 2019 میں افغانستان میں شہریوں کے ہلاک ہونے کی تعداد نے ایک ریکارڈ بنا دیا ہو۔ رپورٹ میں گزشتہ ایک دہائی میں تشدد کے دوران ہلاک ہوئے شہریوں کی تعداد کا اندازہ کر کے بتایا گیا ہے کہ ا فغانستان میں اس دوران 100,000سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔مسٹر یاماموتو نے کہا‘‘تمام فریقوں کو جنگ کو روکنے کے لئے پہل کرنی چاہیے ، کیونکہ امن طویل عرصہ تک برقرار رہتا ہے ۔